تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 274
’’اور دعا سے اٹھ کر اپنے شاگردوں کے پاس آیا اور انہیں غم سے سوتا پایا۔‘‘ اپنی تعریف بھی کتنی کرتے ہیں کہ دعا کی نہیں اور غفلت کی حالت میں سو گئے۔لیکن بتایا یہ جاتا ہے کہ انہیں اتنا غم پہنچا کہ وہ سو گئے۔حضرت مسیح ؑ پھر ان کے پاس آئے اور کہا کہ ’’تم کیوں سوتے ہو اٹھ کر دعامانگو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو۔‘‘ دوسری چیز زکوٰۃ ہے۔زکوٰۃ کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ انہیں دیتا ہے وہ آگے لوگوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔پس نبیوں کا زکوٰۃ دینا درحقیقت ان کا اپنے مریدوںکو اس کی تلقین کرنا ہوتا ہے۔متی باب ۲۲ میں آتا ہے کہ فریسی حضرت مسیح ؑ کے پا س آئے اور آ کر کہا کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ آیا قیصر کو ہم اس کا ٹیکس ادا کریں یا نہ کریں۔ان کی غرض یہ تھی کہ اگر یہ جواب دیں گے کہ ادا کرو تو ہم قوم کو اکسائیں گے اور کہیں گے کہ یہ حکومت کا خوشامدی ہے یہ لوگوں کو تعلیم دیتا ہے کہ قیصر کو جزیہ اداکرناچاہیے اور اگر یہ جواب دیں گے کہ نہ دو تو ہم شور مچا دیں گے کہ یہ حکومت کا باغی ہے۔یہ وہی مولویوں والی چال تھی جو آج کل ہمارے خلاف چلی جاتی ہے۔حضرت مسیح ؑ نے ان کی اس شرارت کو بھانپ لیا۔چنانچہ لکھا ہے ’’یسوع نے ان کی شرارت سمجھ کے کہا اے ریاکارو مجھے کیوں آزماتے ہو۔جزیہ کا سکہ مجھے دکھلائو۔وے ایک دینا ر اس پاس لائے۔تب اس نے ان سے کہا یہ صورت اور سکہ کس کا ہے۔انہوں نے کہا قیصر کا پھر اس نے کہا پس جوچیزیں قیصر کی ہیں قیصرکو اور جو خدا کی ہیں خدا کودو۔انہوں نے یہ سن کر تعجب کیا اور اسے چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘ (متی باب۲۲آیت ۱۸ تا ۲۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح نے اپنے اموال میں سے خدا تعالیٰ کا حصہ دینے کا قانون تسلیم کیا ہے اور یہی چیز ہے جسے زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔پھر متی باب ۱۵میں لکھا ہے ’’تب یسوع نے اپنے شاگردوں کو اپنے پاس بلا کے کہا کہ مجھے اس جماعت پر رحم آتا ہے کہ تین دن میرے ساتھ رہی اور ان کے پاس کچھ کھانے کو نہیں۔اور میں نہیں چاہتا کہ انہیں فاقہ سے رخصت کروں ایسا نہ ہو کہ راہ میں کہیں ناطاقت ہو جائیں۔اس کے شاگردوں نے اس سے کہا کہ اس ویرانہ میں ہم اتنی روٹیاں کہاں سے پاویں کہ ایسی جماعت کو آسودہ کریں۔تب یسوع نے انہیں