تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 270

حصول کےلئے جو انسان کو مزید انعامات کا مستحق بنا دیتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو جوش میں لاتا ہے جن کا دعا کی قبولیت کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔یہ کسی کامل دعا ہے کہ ابھی دعا شروع بھی نہیں کی گئی کہ اس کی قبولیت کےلئے اور اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کےلئے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی استعانت طلب کی جاتی ہے اور اس کی رحمانیت اور رحیمیت کا واسطہ دے کر التجاء کی جاتی ہے کہ وہ اپنی مدد انسان کے شامل حال رکھے اور اس کے لئے ہر قسم کے سامان مہیا فرمائے اور نہ صرف سامان مہیا فرمائے بلکہ ان کے اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج بھی پیدا فرمائے۔پھر وہ کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ گویا وہ خدا تعالیٰ کی چار صفات بیان کرتا ہے اور یہ چاروں اصولی صفات ہیں جن کے اردگرد باقی تمام صفات چکر کھاتی ہیں۔اس کے مقابلہ میں مسیح کہتا ہے۔’’اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو۔‘‘ گویا وہ محض اس کو قدوس کہتا ہے حالانکہ قدوس ان صفات میں سے ایک صفت ہے جو اس کے گرد چکر کھا رہی ہیں۔پھر سورۂ فاتحہ میں پہلے اللہ تعالیٰ کا اسم ذات بیان کیا گیا ہے مگر مسیح کہتا ہے ’’ اے ہمارے باپ‘‘حالانکہ باپ کا لفظ اس کی صرف ایک صفت کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی یہ لفظ صرف اتنا بتاتا ہے کہ اس کے اندر باپ کی سی شفقت اور رحم پایا جاتا ہے حالانکہ صرف باپ ہی رحم کرنے والا نہیں ہوتا ماں بھی رحم کرنے والی ہوتی ہے بھائی بھی رحم کرنے والا ہوتا ہے۔استاد بھی رحم کرنے والا ہوتا ہے۔بادشاہ بھی رحم کرنے والا ہوتا ہے اور سب اپنے اپنے دائرہ میں محبت اور احسان کے ساتھ پیش آتے ہیں۔لیکن قرآن کریم نے ان ساری صفات کو جمع کر کے اس کا اسم ذات بیان کیا۔یعنی اللہ جس میں ساری صفات جمع ہیں۔بے شک باپ بھی مہربان ہوتا ہے مگر وہ اللہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ میں باپ والی محبت بھی شامل ہے ، ماں والی محبت بھی شامل ہے، بیٹے والی محبت بھی شامل ہے۔بھائی والی محبت بھی شامل ہے۔استاد والی محبت بھی شامل ہے، محلہ کی پنچایت والی محبت بھی شامل ہے، بادشاہ والی محبت بھی شامل ہے لیکن باپ میں ان محبتوں سے کوئی محبت بھی شامل نہیں ہوتی۔پس قرآنی دعا کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ اس دعا میں خدا تعالیٰ کے اسم ذات کو پیش کرتا ہے جس میں تمام قسم کے کمالات اور خوبیاں جمع ہیں۔اس کے بعد اس نے صفات کی تقسیم شروع کی اور کہا کہ وہ رب ہے ، رحمٰن ہے، رحیم ہے ،مالک یوم الدین ہے لیکن انجیل نے صرف اتنا کہا کہ ’’تیرے نام کی تقدیس ہو‘‘