تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 261
’’ جو اپنی طرف سے کچھ کہتا ہے وہ اپنی عزت چاہتا ہے لیکن جو اپنے بھیجنے والے کی عزت چاہتا ہے وہ سچا ہے اور اس میں ناراستی نہیں ‘‘ (آیت ۱۸) اس میں وہ پھر اپنے رسول ہونے پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ میں اپنے پاس سے علم دیتا ہوں وہ جھوٹا ہے لیکن وہ شخص جو یہ کہے۔کہ میں خدا تعالیٰ سے علم حاصل کر کے دیتا ہوں وہ سچا ہے گویا حضرت مسیح عیسائیوں کو جن کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح خدا تھا اور اپنے علم سے بولتا تھا جھوٹا قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں کے اس عقیدہ کو کہ مسیح خدا کا بندہ تھا سچا قرار دیتے ہیں۔پھر یوحنا باب ۸ آیت ۱۶ میں فرماتے ہیں۔’’ اگر میں فیصلہ کروں بھی تو میرا فیصلہ سچا ہے کیونکہ میں اکیلا نہیں بلکہ میں ہوں اور باپ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔‘‘ گویا وہ پھر جَعَلَنِيْ نَبِيًّا پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے میرے خدا نے بھیجا ہے۔اسی طرح سترھویں آیت میں فرماتے ہیں۔’’ تمہاری توریت میں بھی لکھا ہے (استثناء باب ۱۷ آیت ۶ و باب ۱۹ آیت ۱۵) کہ دو آدمیوں کی گواہی مل کر سچی ہوتی ہے ایک تو میں خود اپنی گواہی دیتا ہوں اور ایک باپ جس نے مجھے بھیجا میری گواہی دیتا ہے۔‘‘ گویا وہ اپنی سچائی کی دو شہادتیں پیش کرتے ہیں ایک یہ کہ میں اس لئے سچا ہوں کہ میں خود کہتا ہوں کہ میں سچا ہوں اور دوسرے میں اس لئے سچا ہوں کہ خدا کہتا ہے میں سچا ہوں اور جب تمہاری شریعت میں یہ لکھا ہے کہ دو آدمیوں کی گواہی سچی تسلیم کی جائے گی اور میری سچائی پر بھی دو شہادتیں موجود ہیں تو تم کیوں میری سچائی کے قائل نہیں ہوتے۔دیکھو یہ جو مسیح ؑنے کہا ہے کہ ’’ ایک تو میں خود اپنی گواہی دیتا ہوں ‘‘ یہ وہی دلیل ہے جو قرآن کریم نے ان الفاظ میں پیش کی ہے کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس :۱۷) ورنہ گواہی دینے والا بعض دفعہ جھوٹا بھی ہو سکتا ہے اور دنیا میں ہزاروں ایسے واقعات ملتے ہیں۔پس اس جگہ گواہی سے یہ مراد نہیں کہ چونکہ میں اپنے آپ کو سچا کہتا ہوں اس لئے میں سچا ہوں۔بلکہ اس جگہ اپنی گواہی سے مراد آپ کی دعویٰ نبوت سے پہلے کی زندگی کا پاکیزہ ہونا ہے اور حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ ایک تو میری سابقہ زندگی اس