تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 250
لوگ بھی تجھے ایک فوق العا دت وجود سمجھتے ہیں تو تُو پتھر کو روٹی بنادے مگر اُس نے ایسا نہ کیا جس کے معنے یہ ہیں کہ اُس میں خدائی طاقتیں نہیں تھیں۔اِس موقع پر عیسائیوں کی طرف سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ روٹی نہ بنانے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس میں خدائی طاقتیں نہیں تھیں کیونکہ یہ امر اس کی مرضی پر منحصر تھا۔اگر اس کا جی چاہتا تو وہ پتھر کو روٹی بنا سکتا تھا۔مگر چونکہ اُس نے نہ چاہا کہ وہ ایسا کرے اس لئے پتھر روٹی نہ بن سکا پس اگر مسیح نے یہ معجزہ نہیں دکھایا تو اس سے اُس کے عجز کا اظہار نہیں ہوتا۔بلکہ صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ اُس نے جب شیطان کی گستاخی دیکھی تو اُس نے اُس کی بات کو رد کر دیا اور کہہ دیا کہ تم کون ہوتے ہو جو مجھ سے ایسا سوال کرو جاؤمیں پتھر کو روٹی نہیں بناتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس امر کا فیصلہ کرنے کے لئےکہ مسیح نے پتھر کو روٹی کیوں نہ بنایا ہمیں اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ مسیح ؑنے اس سوال کا جواب کیا دیا ہے ؟اگر تو مسیح ؑ یہ جواب دیتا کہ میں پتھر کو روٹی نہیں بناتا یہ امر میری مرضی پر منحصر ہے تم کون ہو جو مجھے اس امر پر مجبور کرو تب تو یہ بات درست تسلیم کی جاسکتی تھی کہ مسیح ؑ نے پتھر کو روٹی اس لئے نہیں بنایا کہ وہ بنا نہیں سکتا تھا بلکہ اس لئے نہیں بنایا کہ وہ بنا نا نہیں چاہتا تھا لیکن مسیح یہ جواب دیتا ہے کہ ’’لکھا ہےکہ انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ ہرایک بات سے جو خدا کے مُنہ سے نکلتی جیتا ہے ‘‘۔اب سوال یہ ہے کہ وہاں کون سے دو وجود تھے جو باتیں کررہے تھے کیا روٹی کھانے والا وجود وہاں مسیح ؑ کے علاوہ کوئی اور بھی تھا ؟صاف ظاہر ہے کہ شیطان روٹی کھانے والا نہیں تھا۔روٹی کھانے والا وجود صرف مسیح ؑ تھا اور مسیح ؑ یہ جواب دیتے ہیںکہ آدمی روٹی کے بغیر بھی جیتا ہے۔گویا مسیح ؑ نے اس امر کا اقرار کیا کہ میں انسان ہوں اور روٹی کا محتاج ہوں لیکن اگر خدا نے مجھے روٹی نہیں دی تو مجھے خدا کے کلام پر اعتبار کرنا چائیے اور ایسی باتیں نہیں کہنی چاہئیں کہ پتھر روٹی بن جائیں۔پھر اس نے کہا کہ ’’انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ ہر ایک بات سے خدا کے منہ سے نکلتی جیتاہے‘‘ یہ بھی وہ اپنے متعلق ہی کہتا ہے پس معلوم ہواکہ مسیح ؑ خدا کی باتوں سے جیتا تھا اور جو خدا کی باتوں سے جیتا ہے وہ خدا نہیں ہوسکتا۔پھر لکھا ہے ’’تب شیطان اُسے مقدس شہر میں اپنے ساتھ لے گیا اور ہیکل کے کنگورے پر کھڑا کرکے اُس