تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 249
کہ خدا کیا ہو تا ہے اور اس کی کیا صفات ہیں اور اس کے اندر کیا کیا طاقتیں پائی جاتی ہیں۔بائبل میں جہاں بھی شیطان کا ذکر آتا ہے وہاں سے اتنا تو پتہ لگتا ہے کہ شیطان ایک باغی وجود تھا اور خدا تعالیٰ کی معرفت کاملہ اس کو حاصل نہیں تھی لیکن ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اتنا ضرور جا نتا تھا کہ خدا کیا ہوتا ہے اور اس کی کیا طاقتیں ہیں پس شیطان کا مسیح کے پاس اُس کی آزمائش کے لئے آنا جبکہ وہ جانتا تھا کہ خدا تعالیٰ کو آزمایا نہیں جا سکتا صاف بتاتا ہے کہ شیطان یہ بھی جانتا تھا کہ مسیح خدا نہیں۔ورنہ اگر وہ جانتا کہ یہ خدا ہے تو وہ اُسے آزمانے کے لئے کیوں آتا۔پھر لکھا ہے جب وہ چالیس دن اور چالیس رات کا روزہ رکھ چکا تو ’’آخر کو بھوکا ہوا‘‘ اب چالیس دن اور چالیس رات کے روزہ کے اگر یہ معنے بھی لئے جا ئیں کہ اُس نے چالیس دن رات کھانا نہیں کھایا تب بھی اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔گاندھی جی نے توساٹھ ساٹھ دن کے بھی روزے رکھے ہیں۔پھر یہاں صرف بھوکا رہنے کا ذکر ہے پیاسا رہنے کا ذکر نہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح گاندھی جی پھلوں کا رس اور سوڈا وغیرہ پی لیا کرتے تھے اسی طرح وہ بھی چالیس دن رات صرف پانی اور پھلوں کا رس وغیرہ پیتے رہے روٹی انہوں نے نہیں کھائی لیکن بہرحال جب چالیس دن اور چالیس رات کا روزہ ختم ہوا تو انجیل بتاتی ہے کہ انہیں بھوک لگی اور جب وہ بُھوکے ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ انسان تھے خدا نہیں تھے کیونکہ بھوک انسان کو ہی لگا کرتی ہے خدا کو نہیں۔عیسائی اس موقع پرکہا کرتے ہیں کہ چونکہ مسیح ؑ انسانی جسم میں تھا اس لئے انسانی حوائج بھی اس کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ہمارا تو اعتقاد ہے کہ اس کا جسم بھی انسانی تھا اور اس کی روح بھی انسانی تھی۔لیکن بہر حال ہم عیسائیوں سے کہتے ہیں کہ کم ازکم تم نے مسیح کا انسانی جسم تو مان لیا۔اب رہ گیا یہ سوال کہ اس میں انسانی روح تھی یا خدائی۔اس کا حل اگلی آیا ت سے ہوجاتا ہے۔لکھا ہے شیطان نے اُس سے کہاکہ ’’اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو کہہ کہ یہ پتھر روٹی بن جائیں۔‘‘ اس پر حضرت مسیح ؑ نے کہا ’’لکھا ہے ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ ہر ایک بات سے جو خدا کے مُنہ سے نکلتی جیتاہے۔‘‘ یعنی شیطان نے کہا کہ پتھر کو روٹی بنا دے۔اب پتھر کو روٹی بنانا خدا کے اختیا ر میں ہے انسان کے اختیار میں نہیں۔پس چونکہ یہ چیز خدا کے اختیار میں تھی۔اس لئے شیطان نے کہا کہ جب تُو کہتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور