تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 234
بڑھانے کے بھی ہوسکتے ہیں۔پس اَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ کے یہ معنے نہیں کہ حضرت مریم مسیح کو اُٹھائے ہوئے تھیں بلکہ مرادیہ ہے کہ وہ مسیح ؑ کی تعلیم پر عمل کرنے والی اور اس کی تصدیق کرنے والی تھیں۔گویاانجیل نے جو الزام لگایاتھا کہ مریم حضرت مسیح کو نہیں مانتی تھی قرآن کریم نے اَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ کے الفاظ میں اس کی تردید کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے وہ تو مسیح ؑ کے ساتھ ساتھ آئی تھیں اور کہتی تھیں کہ میں اس پر ایمان لاتی ہوں یہ سچا ہے۔تم کہتے ہویہ حرام کا بچہ ہے کیا حرام کے بچے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔تم اس سے بات کرکے تو دیکھو تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ یہ حلال زادہ ہے یا نہیں۔قَالُوْا يٰمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْـًٔا فَرِيًّا انہوں نے کہا اے مریم تُو نے یہ کیا گند پھیلایا ہے۔پہلے تُو نے ایک گندہ کام کیا اور آگے یہ بھی خدا پر جھوٹ بولنے لگ گیا۔گویا انہوں نے یہ طعن کیا کہ چونکہ یہ حرام کا تھا اس لئے ایسی باتیں کرنے لگ گیا ہے۔يٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِيًّاۖۚ۰۰۲۹ اے ہارون کی بہن ! تیرا باپ تو بُرا آدمی نہیں تھا اور تیری ماں بھی بدکار نہیںتھی۔تفسیر۔یعنی اے ہارون کی بہن تیرا باپ تو برا آدمی نہیں تھا اور تیری ما ں بھی بدکار نہیں تھی پھر یہ کیا اندھیر ہوگیا ہے۔مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت مریم کی دوسری والدہ سے ایک اور بھا ئی تھا جس کا نام ہارون تھا(تفسیر مظہری) لیکن یہودی تاریخ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔اِس لئے ایسی بے دلیل بات پیش نہیں کی جا سکتی۔بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مریم کو ہارون کی بہن اس لئے کہا کہ وہ ان کی نسل میں سے تھیں۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ الزبتھ جو حضرت زکریا کی بیوی تھیں بائبل سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہارون کے خاندان میں سے تھیں اور چونکہ یہ اُن کی رشتہ دار تھیں اس لئے قرآن نے اُن کو اُن کے قبیلہ کی زبان میں اُخت ِہارون کہہ دیا (دیکھو القرآن از جارج سیل زیر آیت یٰٓا اُخْت ِہارون) یہ اُن عیسائیوں نے تشریح کی ہے جو منصف مزاج ہیں اور تعصب کا مادہ اپنے اندر نہیں رکھتے۔بعض عیسائیوں نے تو اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم تاریخ سے ایسے ناواقف تھے کہ اُنہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ہارون حضرت مسیح سے چودہ سو سال پہلے گذرے ہیں (ینابیع الاسلام صفحہ ۱۰۴) لیکن بعض دوسرے عیسائیوں نے خود اس اعتراض کو ردّ کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ