تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 233
ہوتے ہیں۔پہلے سفر کے حالات جب وہ بچہ تھا اس پر چسپا ں نہیں ہوتے۔خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ رشتہ داروں سے مسیح ؑنے باتیں کیں۔انجیل کہتی ہے کہ پیدائش کے بعد مسیح ؑ ناصرہ گیا وطن نہیں گیا۔پس وطن کسی دوسرے وقت میں گیا اور دوسری جگہ یروشلم کا گردو نواح ہے جہاں اُس کا جا نا دو دفعہ ثابت ہے۔ایک دفعہ بچپن میں جب اُس کی ماں اور باپ اُس کے حالات سے ابھی نا آشنا تھے اور دوسری دفعہ جب وہ مدعی ہوکر گیا۔پس یہ گفتگو اُسی وقت ہوئی۔اس سے پتہ لگ گیا کہ فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ سے وہ زمانہ مراد ہے جب مسیح ۳۳ سال کے ہوچکے تھے اور دعویٰ نبوت کرچکے تھے۔اب سوال پیدا ہوتا ہےتَحْمِلُهٗسے کیا مراد ہے بچہ کو تو ما ں اُسی وقت اُٹھا تی ہے جب وہ چھوٹا ہوتا ہے۔سویاد رکھنا چاہیے کہ بیشک اس کے ایک معنے گود میں اٹھا نے کے ہیں۔لیکن اِس کے علاوہ مجازی طور پر یہ کسی کا ساتھ دینے اور اس کی تائید اور نصرت کرنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا (الجمعۃ:۶) یعنی وہ لوگ جن پر تورات رکھی گئی تھی لیکن انہوں نے اُس کو اُٹھا یا نہیں۔اب دیکھو یہاں حمل کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر حُمِّلُوا کے یہ معنے نہیں کہ تورات ان کے سروں پر رکھ دی گئی تھی بلکہ اُس کی تائید کرنے کا ان کو حکم دیا گیا تھا۔اور جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ لَمْ يَحْمِلُوْهَا تو اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ ہر یہودی نے تورات اپنے ہاتھ سے پھینک دی تھی۔بلکہ مطلب یہ تھا کہ انہوں نے تورات کی تبلیغ اور تائید چھوڑ دی تھی۔چنانچہ مفردات امام راغب میں مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا کے معنی کرتے ہوئے لکھا ہے کُلِّفُوْا اَنْ یَقُوْمُوْا بحَقِّھَا فَلَمْ یَحْمِلُوْھَا یعنی یہودیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ تورات کے واجبات کو ادا کریں اُس کی ظاہری اور باطنی طور پر تائید وحفاظت کریں اور اُس کے احکام پر خود بھی عامل ہوں اور دوسروں کو بھی اس کی تبلیغ کریں لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔گویا خدا تعالیٰ نے حُمِّلُوا کہا مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر یہودی کے سر پر تورات رکھی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے لَمْ يَحْمِلُوْهَا۔کہا مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر یہودی نےتورات اُٹھا کر پھینک دی تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ فرما یا کہ انہوں نے تورات نہیں اُٹھا ئی تو انہوں نے ظاہر میں تورات اُٹھائی ہوئی تھی اور جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ تو رات اُن پر رکھی گئی تو ظاہرمیں اُن کے سروں پر کوئی تورات نہیں تھی۔پس حمل کے معنے کبھی تائید اور نصرت اور ساتھ دینے کے بھی ہوتے ہیں۔انجیل کہتی ہے کہ مسیح ؑ پر اُن کی ماں ایمان نہیں لائی(مرقس باب ۳ آیت ۳۱ تا ۳۵) لیکن قرآن کہتا ہے کہ فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ جب انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ماں اُن کے ساتھ اُن کی تصدیق کرتی اور اُن کے دعویٰ کی تائید کرتی ہوئی آئی۔اِسی طرح تَحْمِلُهٗکے معنی حوصلہ دلانے اور ہمت