تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 202
چصرف اتنا کہتی ہے کہ روح القدس اس پر نازل ہوا تھا۔پھر متی باب ۱ آیت ۱۸ میں ہے ’’وہ روح القدس سے حاملہ پائی گئی۔‘‘ یہاں معاملہ اور بھی مشتبہ ہو گیاکیونکہ متی کےالفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف القدس اس پر نازل ہی نہیں ہوا بلکہ روح القدس اس کے اندر داخل ہو گیا۔اسی طرح متی باب ۱ آیت ۲۰ میں ہے ’’جو اس کے رحم میں ہے سو روح القدس سے ہے۔‘‘ اس میں روح القدس سے حاملہ ہونے کی تشریح کر دی کہ جو اس کے رحم میں ہے سو روح القدس سے ہے یعنی اس کے نطفہ سے ہے۔یہاں اور بھی مشکل پیش آگئی۔کیونکہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا مریم کے اندر داخل ہوا تھا یا روح القدس مریم کے پیٹ میں داخل ہوا تھا۔کیونکہ متی یہ بتاتا ہے کہ روح القدس مریم سے ملا اور اس کے نطفہ سے آگے مسیح پیدا ہوا پس عیسائیوں کا یہ خیال کہ قرآن نے انجیل کی تصدیق کر دی ہے بالکل غلط ہے اوّل تو قرآن کہتا ہے کہ روح نے متمثل ہو کر اسے خبر دی یہ نہیں کہتا کہ روح اس کے اندر چلی گئی اور انجیل خدا کی جگہ روح القدس کا حمل بتاتی ہے۔گویا دونوں باتیں مسیحی عقیدہ کے خلاف ہیں۔مسیحی عقیدہ جو مشہور ہے وہ یہ ہے کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے اور قرآن یہ نہیں کہتا۔اور انجیل کا مطلب یا تو یہ ہے کہ وہ روح القدس کا فرزند تھا یا یہ کہ خدا روح القدس تھا اور یہ دونوں باتیں مسیحی عقیدہ کے خلاف ہیں۔قرآن صرف اتنابتاتا ہے کہ ایک فرشتہ ان کے سامنے متمثل ہوا اور اس نے انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بیٹے کی خبر دی۔پس رُوْحَنَا سے عیسائیوںکا یہ نتیجہ نکالنا کہ قرآن انجیل کا مصدق ہے بالکل غلط ہے۔قَالَتْ اِنِّيْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا۰۰۱۹ (مریم نے اس سے )کہا میں تجھ سے رحمٰن (خدا) کی پناہ مانگتی ہوںاگر تیرے اندر کچھ بھی تقویٰ ہے تفسیر۔یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کی طرف رحمٰن کا لفظ منسوب کیا ہے اور یقیناً خدا تعالیٰ کی بات ہی درست ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ عیسائیت خدا تعالیٰ کی رحمانیت ہی کی منکر ہے اور عیسائیت کی بنیاد ہی اس