تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 196

اور ان کے خاوند یوسف کا بھی لیکن چونکہ عبادت گاہ یروشلم تھی قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے (بائبل سے نہیں) کہ بچپن میں ان کو دینی تعلیم و تربیت کے لئے یوروشلم میں حضرت زکریا ؑ کے پاس چھوڑا گیا تھا مگر جیسا کہ قرآن کریم سے ہی پتہ چلتا ہے حضرت مریم کی والدہ کا یہ منشاء نہیں تھاکہ وہ کاہن یا نن بنیں۔اس لئے انہوں نے ہمیشہ وہاں نہیں رہنا تھا۔چنانچہ حضرت مریم کے متعلق انہوں نے دعا کی تھی کہ الٰہی اس کی اولاد بھی پیدا ہو جو نیکی اور تقویٰ پر قائم رہنے والی ہو۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی شادی کرنا چاہتی تھیں پس جب وہ جوان ہوئیں اور بالغ ہو گئیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی والدہ انہیں ناصرہ اپنے وطن لے گئیں۔پس اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا سے یروشلم اور اس میں رہنے والے مراد نہیں۔بلکہ اس سے ان کے وہی اہل مراد لئے جائیں گے جو کہ ناصرہ میں تھے۔ان سے وہ ایک طرف ہو کر مکان شرقی میں چلی گئیں۔یہ شرقی مکان کیا تھا؟ مفسرین کہتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ نظارہ دیکھا تو وہ کسی مشرقی شہر کی طرف گئی تھیں۔انجیل کہتی ہے کہ وہ ناصرہ میں تھیں جو ان کا اور ان کے خاوند کا وطن تھا (انجیل لوقا باب ۱آیت ۲۶ ، ۲۷) اور ناصرہ یوروشلم سے شمال کی طرف ہے نہ کہ مشرق کی طرف۔پس یہ معنے نہیں لئے جا سکتے کہ حضرت مریم اس وقت یروشلم سے ناصرہ کو چلی گئیں بلکہ اس جگہ ناصرہ کی رہائش کے زمانہ کا کوئی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔بہرحال جہاں تک بائبل کی تاریخ کا سوال ہے حضرت مریم مشرق کے مکان کی طرف نہیں گئیں بلکہ اپنے وطن میں رہیں اور یوروشلم کے لحاظ سے وہ شمال میں تھیں۔بائبل کی تاریخ کوئی معتبر تاریخ تو ہے نہیں مگر بہرحال اس کے اپنے زمانہ کے متعلق باتیں بلاعقلی یا نقلی دلیلوں کے رد نہیں کی جا سکتیں کیونکہ وہ اس زمانہ کے قریب کی باتیں ہیں اور چونکہ شَرْقِیٌّ کے معنے عربی زبان میں ایسے مکان کے بھی ہوتے ہیں جس کا منہ مشرق کی طرف ہو اور مشرق کے بھی ہوتے ہیں۔اس لئے مَکَانًا شَرْقِیًّا کے معنے ہوئے۔مشرق کی جانب یا ایسے مکان میںجس کا منہ مشرق کی طرف تھا۔ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم قرآن کریم کی بنا ء پر بائبل کے بیان کو رد بھی نہیں کر سکتے اور آسانی سے یہ معنے کر سکتے ہیں کہ وہ ایک ایسے مکان میں گئیں جس کا منہ مشرق کی طرف تھا۔اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ قرآن کریم میں تو اہم باتیں بیان کی جاتی ہیں۔آخر یہ کوئی قصہ کہانی کی کتاب تو ہے نہیں کہ غیرضروری تفصیلات بھی بیان کی جائیں اور بتایا جائے کہ فلاں نے اس رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا اور اس کی پگڑی اس رنگ کی تھی۔اس میںتو وہی باتیں بیان ہوتی ہیں جو اپنے اندر اہمیت رکھتی ہیں۔پس سوال پیدا ہوتاہے