تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 16

بتاتا ہے کہ یہ تاریخ تمہارے لئے شمع راہ ہو گی اور تمہیں مدنظر رکھنا پڑے گا کہ اس اس طرح عیسائیت کی بنیاد پڑی اور اس اس رنگ میں تمہارے احیاء کی بنیاد ڈالی جائے گی۔گویا سورۂ مریم، سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ کہف کی تیسری کڑی ہے اور یہ تینوں سورتیں ایک ہی مضمون کی حامل اور ایک ہی طریق پر چل رہی ہیں۔پھر اس سورۃ کا ایک قریبی تعلق سورۂ کہف سے یہ بھی ہے کہ سورۂ کہف کے آخر میں شریعت اور توحید پر زور دیا گیا تھا اور اس سورۃ میں مسیح کے ذکر سے کلام شروع کیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے شریعت اور توحید میں دو خطرناک ابہام پیدا ہونے والے تھے اور اس طرح بات صاف کر دی گئی۔پھر ان دونوں سورتوں کا ایک یہ تعلق بھی ہے کہ سورۂ کہف میں مسیحیوں کی انتہاء بیان کی گئی تھی اور اس میں ان کی ابتداء بیان کی گئی ہے۔بظاہر اس کے الٹ ہونا چاہیے تھا۔مگر بیج چونکہ مخفی ہوتا ہے اور کسی چیز کے ظاہر ہونے کے بعد ہی اس کی حقیقت کھلتی ہے اس لئے اسے بعد میں رکھا تاکہ مسیحیوں اور غیروں پر ظاہر ہو کہ کہاں سے بات شروع ہوئی تھی اور ختم کس شکل میں جا کر ہوئی۔خلاصہ سورۃ اس سورۃ کے شروع کے مقطعات میں جو صفات الٰہیہ کا اختصار ہیں مسیحیت اور اسلام کے عقائد کا مقابلہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ گو مسیحیت کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن اس میںخلاف صداقت عقائد داخل ہو گئے ہیں اور وہ عقائد صفات الٰہیہ کے بھی خلاف ہیں (خلاصہ مفہوم کٓھٰیٰعٓصٓ) اس کے بعد مسیح کا واقعہ حضرت زکریا کے ذکر سے شروع کیا۔کیونکہ مسیح علیہ السلام کی بہت بڑی علامت جو یہود میں مشہور تھی وہ مسیح سے پہلے ایلیا نبی کا آسمان سے اتر نا تھا (ملا کی باب ۴ آیت ۵) چنانچہ مسیح کے نزول کے بعد سب سے اہم سوال ان سے یہی کیا جاتا تھا۔اور اسی سوال کے حل کرنے کی طرف انجیل نے غیر معمولی توجہ دی ہے اور بتایا ہے کہ ایلیا سے مراد یوحنا ہے ( متی باب ۱۱ آیت ۱۵ و باب ۱۷ آیت ۱۲ و مرقس ۹ آیت ۱۳) اور یہ کہ ایلیا نے آسمان سے نہیں آنا تھا بلکہ زمین سے ہی نکلنا اور ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا تھا (متی باب ۱۱ آیت ۱۱ولوقاباب ۷ آیت ۲۸) )ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّاسے يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا تک) ایلیا کے ذکر کے بعد مسیح کا ذکر کیا لیکن مسیح ؑ کے دعویٰ کے ذکر کی بجائے اس کی والدہ کے ذکر سے اس کا ذکر شروع کیا۔کیونکہ مسیح ؑ کی پیدائش سے ہی بعثت محمدیہؐ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے ان کی دوبیویوں سے تھے۔یعنی حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق۔حضرت اسماعیلؑ پلوٹھے تھے اور حضرت اسحاق ؑآپ کے دوسرے بیٹے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان دونوں کے بار ہ