تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 15

وابستہ ہو گی جس طرح وہاں اصحاب کہف یعنی مسیح ناصری کے اتباع کے ذریعہ سے وہ غلبہ ملا تھا اسی طرح یہاں آنے والے مسیح کے لئے نئے اصحاب کہف پیدا ہوں گے اور ان کے ذریعہ سے دوبارہ اسلام غالب آ ئے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے سورۂ کہف میں معراج موسوی کا ذکر کیا اور بتایا کہ معراج موسوی کے اندر ہی اسلام کی ترقی کی خبر دی گئی تھی مگر ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس معراج کے نتیجہ میں موسوی اور محمدی سلسلہ میں شدید رقابت پیدا ہو جائے گی۔چنانچہ جب محمدی سلسلہ ترقی کرے گا۔موسوی سلسلہ اسے رقابت کی نظروں سے دیکھے گا اور اس رقابت کے نتیجہ میں جیسا کہ عام طور پر قاعدہ ہے کہ جب دو۲ رقیب ہوں اور ان میں سے ایک ذرا بھی غافل ہو تو وہ مارا جاتا ہے۔مسلمان غفلت کریںگے اور موسوی سلسلہ کے علمبردار یعنی مسیح ناصری کے پیرو ان پر غالب آجائیں گے اور مسلمانوں کو مغلوب کر لیںگے۔پھر اس مشابہت کے لئے سورۂ کہف میں ایک پرانا واقعہ بنی اسرائیل کی قوم کا بیان کیا اور بتایا کہ بنی اسرائیل میں ذوالقرنین کا ایک واقعہ گزرا ہے تم دیکھو کہ کس طرح ذوالقرنین کے ذریعہ تباہ شدہ یہودیوں کو دوبارہ حکومت ملی۔وہ واقعہ بھی اس موقعہ پر ظاہر کیا جائے گا اور مسلمان جو تباہ ہو چکے ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں پھر ایک دوسرے ذوالقرنین کے ذریعہ سے تباہی سے بچائے گا اور پھر ان کی ترقی اور حفاظت کے سامان پیدا فرمائے گا۔اس کے بعد سورۂ مریم کو شروع کیا گیا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتاچکا ہوں پہلی سورتوں کے مضمون سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام کی ترقی اور اس کے تنزل کا دور موسوی سلسلہ سے مشابہت رکھتا ہے۔جس طرح موسوی سلسلہ کے ٹوٹنے پر اس کا احیاء مسیح ناصری ؑ کے ذریعہ سے ہوا جو موسوی سلسلہ کا آخری نقطہ تھا اسی طرح اسلام کی طاقت اور اس کی شوکت کے ٹوٹنے پر اس کا دوبارہ احیاء مسیح ؑمحمدی کے ذریعہ سے ہوگا جو محمدیؐ سلسلہ کا آخری نقطہ ہو گا مگر چونکہ محمدیؐ سلسلہ کا اصل مقابلہ مسیح ناصری کی قوم کے ساتھ ہوگا اور اسلام کا ٹوٹنا مسیح ناصری کی قوم کی وجہ سے ہوگا جو موسوی سلسلہ کا آخری نقطہ تھا۔اس لئے محمدی سلسلہ جب ترقی کرے گا تو اسے اصل مقابلہ مسیح ناصری ؑ کی قوم سے ہی پیش آئے گا۔اس لئے اگر ہم تاریخی طور پر غور کرنا چاہیں تو ہمیں بجائے موسوی سلسلہ پر غور کرنے کے مسیحی سلسلہ پر غور کرنا پڑے گا۔کیونکہ اسلام کے اصل دشمن وہی ہیں۔اس مناسبت کے لحاظ سے سورۂ کہف کی تشریحات کے بعد اب وہ اس قوم کے حالات کی طرف آتا ہے جن سے مسلمانوں کا اصل مقابلہ تھا اور بتاتا ہے کہ مسلمانوں پر مسیح کے ذریعہ سے ہی تباہی آئی یعنی مسیح ناصری کی قوم کے ذریعہ سے اور مسلمانوں نے اگر تباہی سے بچنا ہے تب بھی مسیح کے ذریعہ سے ہی یعنی مسیح موعود ؑپر ایمان لانے کی وجہ سے۔اس لئے اللہ تعالیٰ اب عیسائیت کی تاریخ بیان کرتا ہے اور