تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 14
یروشلم بنانے میں مد د دی اور اس نے انہیں اپنے مرکز میں لا کر بسا دیا(انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیر لفظ Cyrus)۔اسی طرح مسلمانوں کی پہلی تباہی کے موقعہ پر بھی ایسا ہی نشان ظاہر ہوا بلکہ یہ نشان مسلمانوں کے حق میں زیادہ مکمل صورت میں ظاہر ہوا۔اور وہ اس طرح کہ فارس اور مید کا بادشاہ جس نے یہود کو یروشلم کے آباد کرنے میں مدد دی تھی یہودی نہیں ہوا تھا صرف ان کا ہمدرد اور خیر خواہ تھا۔لیکن وہ ترک بادشاہ جنہوں نے اسلامی حکومت کو تباہ کیا تھا خود مسلمان ہو گئے اور بجائے اس کے کہ وہ مسلمانوں کی تباہی میںحصہ لیتے وہ ان کی ترقی اور احیاء میں حصہ لینے لگے (البدایہ و النہائیہ لابن کثیر۔السلطان برکۃ کان بن تولیۃ بن چنگیز خان )۔اور اسلام پھر دوبارہ ان کے ہاتھوں سے عروج کے ایک نئے دور میں سے گزرنے لگا۔اس کے مقابلہ میں دوسری تباہی جو بنی اسرائیل پر آئی تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حاکم قوم خود مسیحی ہو گئی اور یہودی مذہب سے اس کی اس حد تک دلچسپی ہو گئی کہ مسیحی روایتوں کے ساتھ ساتھ تورات کا ادب اور احترام اور اسرائیلی انبیاء کا ادب اور احترام بھی ان میں قائم ہو گیا(انسائیکلو پیڈیا برٹینکا زیر لفظ جیوز)۔مسلمانوں کے لئے بھی یہی مقدر ہے کہ وہ حاکم قومیں جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو تباہ کیا ہے وہی ایک دن اسلام قبول کریں گی اور پھر دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل ہو گی۔اس کے بعد سورۂ کہف میں اسی مضمون کو اور کھول کر بیان کیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ دوسری تباہی کے بعد جو ذریعہ خدا تعالیٰ نے موسوی سلسلہ کو ترقی دینے کا اختیار کیا تھا وہی اب بھی اختیار کیا جائے گا۔یہ کیا ذریعہ تھا جو اختیار کیا گیا اور موسوی سلسلہ کی یہ تباہی کس طرح ترقی میں تبدیل ہوئی۔مسیحی دنیا اس سے خوب واقف ہے وہ رنگ جو اس وقت تک موسوی سلسلہ کا چلا جاتا تھا اسے یکسر بدل دیا گیا اور مسیح ناصری جنہوں نے یہ کہا تھا کہ میں قانون کو بدلنے نہیں آیا بلکہ اسے پورا کرنے آیا ہوں (متی باب ۵ آیت ۱۷۔۱۸) ان کی جماعت کو خدا تعالیٰ نے تبلیغ دین کی ایسی توفیق دی کہ ان کے ذریعہ سے پھر تورات کی حکومت ایک نئے رنگ میں دنیا میں قائم ہو گئی اور وہی قوم جو مردہ ہو چکی تھی پھر موسوی سلسلہ کے آخری خلیفہ مسیح ناصری پر ایمان لا کر دنیا میں ترقی کر گئی اور موسوی سلسلہ پھیل گیاایسا ہی بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں سے بھی ہوگا۔سورۃ کہف کے بعد سورۃ مریم کو رکھنے کی حکمت چنانچہ یہ بتانے کے لئے کہ مسلمانوں کی دوبارہ ترقی بھی ایک مسیح کے ذریعہ سے ہو گی سورۂ مریم کو سورۂ کہف کے بعد رکھا گیا اور اس میں مسیح علیہ السلام کے واقعات بیان کر کے توجہ دلائی گئی کہ ایک ایسا ہی نشان مسلمانوں میں بھی ظاہر ہوگا اور مسلمان پھر اس نشان کے ذریعہ سے ترقی کریں گے۔چنانچہ جس طرح موسوسی سلسلہ کی ترقی ایک مسیح ؑ کے ساتھ وابستہ تھی اسی طرح اسلام کی ترقی ایک مسیح کے ساتھ