تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 13
سلسلہ محمدیہ کی سلسلہ موسویہ سے تشبیہ چنانچہ سورۃ بنی اسرائیل میں موسوی سلسلہ کے کچھ واقعات بیان کر کے بتایا گیا تھا کہ موسوی سلسلہ کے متعلق یہ مقدر تھا کہ اس پر زمانہ موسیٰ ؑ کے بعد دو۲ تباہیاں آئیں گی اور اسی طرح پر دو۲ ترقیوں کا زمانہ بھی آئے گا اور چونکہ اسلام کی ترقی موسوی سلسلہ کے مشابہ ہے اس لئے مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلو ک ہوگایعنی جس طرح وہاں زمانہ موسیٰ ؑ کے بعد دو۲ تباہیاں اور دو۲ ترقیاں مقدر تھیں۔اسی طرح یہاں بھی زمانہ نبوی کے بعد مسلمانوں کے لئے دو۲ تباہیاں اور دو۲ ترقیاں مقدر ہیں۔چنانچہ جیسا کہ بنی اسرائیل کی پہلی تباہی حضرت دائودؑ کے زمانہ کے بعد ہوئی جو بڑی ترقی کا دور تھا اور اس میںیروشلم تباہ ہوا جو یہود کا مرکز تھا(انسائیکلوپیڈیا برٹینکا زیر لفظ جیوز)۔اسی طرح زمانہ نبوی کے بعد بنو عباس کے زمانہ میںجو بڑی ترقی کا دور تھا۔پہلی تباہی آئی اور بغداد جو اسلامی حکومت کا مرکز تھا وہ تباہ ہو گیا اور مسلمان علماء بغداد سے بھاگ کر ادھر ادھر منتشر ہو گئے اور مرکز پر غیروں کا قبضہ ہو گیا(تاریخ ابن خلدون زیر عنوان وفاۃ المستنصر و خلافۃ المستعین اخر من العباس للبغداد)۔پھر جس طرح وہاں جو پہلی تباہی آئی وہ زیادہ تر حکومت کے مرکز کی تباہی تھی۔یعنی نبو کد نضر نے یروشلم کو تباہ کیا اور وہاں کا تمام قیمتی سامان اپنے ساتھ لے گیا اور یہود جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔اسی طرح یہاں جو پہلی تباہی آئی وہ بھی زیادہ تر اسلامی حکومت کے مرکز کی تباہی تھی اور زمانہ بھی قریباً قریباً وہی تھا۔یعنی جتنے عرصہ بعد یروشلم پر تباہی آئی اتنے عرصہ بعد ہی بغداد پر تباہی آئی۔اس کے بعد دوسری تباہی جو ٹائٹس کے زمانہ میں یہود پر آئی وہ ایسی تھی جس کے بعد یہودی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور ان میں سے کچھ ایران کے علاقہ میں چلے گئے۔کچھ مصر کی طرف نکل گئے اور انہیں اپنا وطن بالکل چھوڑ دینا پڑا(انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ جیوئش)۔اسی طرح کی ایک دوسری تباہی مسلمانوں کے لئے بھی مقدر تھی۔چنانچہ جس طرح بنی اسرائیل کی دوسری تباہی ظہور مسیح سے پہلے شروع ہوئی اور اس کے بعد بھی کچھ عرصہ تک جاری رہی۔اسی طرح زمانہ اسلام میں بھی ہوا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب دعویٰ کیا تو اس سے کچھ عرصہ پہلے سے ہی مسلمانوں پر یہ عمومی تباہی مغربی مسیحی طاقتوں کے ذریعہ سے جو رومن ایمپائر کے قائم مقام تھیں آنی شروع ہوئی اور وہ ہر جگہ کمزور ہوتے چلے گئے ان کی حکومتیں تباہ ہو گئیں اور اسلام کو پھر ایک سخت دھکا لگا اور ساری دنیا سے اسلامی حکومت کا نشان مٹ گیا۔یہ تباہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں بھی رہی اور بعد میں بھی جاری رہی لیکن جیسا کہ پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے مقدر یہی ہے کہ ایک عرصہ کے بعد مسلمانوں کی یہ تباہی ترقی کی صورت میں بدل جائے گی اور انہیں دنیا میں پھر عروج حاصل ہو جائے گا۔پہلی موسوی تباہی کے بعد یہود کو دوبارہ زندگی اس طرح حاصل ہوئی تھی کہ جو دشمن قوم تھی اس نے ان کو دوبارہ