تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 162

اتنی معمولی بات جس کے یوروپین لوگ رات دن عادی ہیں اور وہ وفود کے طریق ملاقات کو اچھی طرح جانتے ہیں وہی اگر قرآن کریم میں آ جائے تو اس پر ہنسی اڑانے لگ جاتے ہیں۔کسی شاعر نے کہا ہے ع ایں گنا ہیست کہ در شہر شما نیز کنند یہ گنا ہ وہ ہے جو تمہارے شہر میں بھی ہوتا ہے۔اسی طرح ہم کہتے ہیں یہ طریق وہ ہے جو رات دن تمہارے ہاں جاری ہے اس پر اعتراض کیسا؟ پھر ہم بائبل کو دیکھتے ہیں تو اس میں بھی اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔چنانچہ پیدائش باب ۱۸میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق آتا ہے ’’پھر خدا وند ممرے کے بلوطوں میں اسے نظر آیا اور وہ دن کوگرمی کے وقت اپنے خیمہ کے دروازہ پر بیٹھا تھا اور اس نے اپنی آنکھیں اٹھا کر نظر کی۔اور کیا دیکھتا ہے کہ تین مرد اس کے سامنے کھڑے ہیں(یعنی پہلے خدانظر آیا اور پھر دیکھا تو تین مرد سامنے کھڑے تھے) وہ ان کو دیکھ کر خیمہ کے دروازہ سے ان سے ملنے کو دوڑا اور زمین تک جھکا۔اور کہنے لگا کہ اے میرے خدا وند اگر مجھے پرآپ نے کرم کی نظر کی ہے تو اپنے خادم کے پاس سے چلے نہ جائیں بلکہ تھوڑا سا پانی لایا جائے اور آپ اپنے پائوں دھو کر اس درخت کے نیچے آرام کریں۔میں کچھ روٹی لاتا ہوںآپ تازہ دم ہو جائیں تب آگے بڑھیں کیونکہ آپ اسی لئے اپنے خادم کے ہاں آئے ہیں۔انہوں نے کہا جیسا تو نے کہا ہے ویسا ہی کر۔اورابراہام ڈیرے میں سارہ کے پاس دوڑا گیا اور کہا کہ تین پیمانہ باریک آٹا جلدلے اور اسے گوندھ کر پھلکے بنا اور ابرہام گلہ کی طرف دوڑا اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر ایک جوان کو دیا اور اس نے جلدی جلدی اسے تیار کیا۔پھر اس نے مکھن اور دودھ اوراس بچھڑے کو جو اس نے پکوایا تھا لے کر ان کے سامنے رکھا اور آپ ان کے پاس درخت کےنیچے کھڑا رہا اور انہوں نے کھایا پھر انہوںنے اس سے پوچھا کہ تیری بیوی سارہ کہاں ہے۔اس نے کہا وہ ڈیرے میں ہے۔تب اس نے کہا میں پھر موسم بہار میں تیرے پاس آئوں گا۔اور دیکھ تیری بیوی سارہ کے بیٹا ہو گا (دیکھو یہاں پہلے خدا نظر آتا ہے۔پھر تین مرد دکھائی دیتے ہیں اور وہ باتیں شروع کر دیتے ہیں مگر یکدم ان کی گفتگو میں ہی پھر یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ ’’میں پھر موسم بہار میں تیرے پاس آئوں گا‘‘) اس کے پیچھے ڈیرے کا دروازہ تھا سارہ وہاں سے سن رہی تھی اور ابرہام اور سارہ ضعیف اور بڑی عمر کے تھے۔اور