تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 12
لئے ضروری ہے کہ عیسائیت کے متعلق انہیں تفصیلاً واقفیت ہو کیونکہ اس سورۃ کے ذریعہ صرف یہی نہیں بتایا گیا تھا کہ ہجرت ہو گی بلکہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایک لمبے عرصہ تک عیسائیوں سے مقابلہ ہوگا اور ایک دوسرے کی تردید کے لئے مختلف قسم کے دلائل استعمال کئے جائیں گے پس یہ وسوسہ محض بے بنیاد ہے حقیقت یہی ہے کہ عیسائیوں نے چونکہ اس قرآنی معجزہ کو محسوس کرلیا تھا اس لئے انہوں نے پورا زور لگایا کہ اس سورۃ کو ہجرت حبشہ کے بعد کی نازل شدہ سورۃ قرار دیں چنانچہ میور کہتا ہے کہ اس میںہجرت کی طرف تو اشارہ ہے مگر ہجرت حبشہ کی طرف نہیں بلکہ ہجرت طائف کی طرف۔گویا وہ اسے ان آخری ایام مکی کی جو طائف میں گزرے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طائف میں بھی بعض عیسائی غلام تھے اور واقعہ طائف میں ایک عیسائی غلام عداس نامی کا ذکر بھی آتا ہے جو رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم سے ملا اور اس نے آپ سے والہانہ عقیدت کا اظہار کیا۔مگر اس قسم کے عیسائی غلام خود مکہ میں بھی تھے اور تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ لوہا کو ٹاکرتے تھے یا اسی قسم کے بعض اور کام کیا کرتے تھے۔سفر طائف میں جس عیسائی غلام کا ذکر آتا ہے اس کے متعلق تاریخ میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۱؟ اس نے کہا نینوہ کا۔آپ نے فرمایا کیا وہی نینوہ جس میں میرا بھائی یونس ؑ آیا تھا؟ اور پھر آپ نے اسے تبلیغ کی جس سے وہ اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے آپ کے ہاتھ چوم لئے (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام باب قصۃ عداس النصرانی معہ)۔پس بے شک طائف میں بھی کچھ عیسائی تھے مگر ان کے ساتھ کوئی مذہبی مقابلہ پیش نہیں آیا کہ اس سورۃ کو طائف کے واقعہ پر چسپاں کیا جائے۔وہیری نے بھی اسے دبے لفظوں میںہجرت حبشہ کے بعد کی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ کہتا ہے یہ سورۃ اتنی دور تو نازل نہیں ہوئی جتنی دور میور بتاتا ہے مگر اتنی قریب بھی نازل نہیں ہوئی جتنی قریب مسلمان بتاتے ہیں اس نے اس سورۃ کو بعد از ہجرت حبشہ پانچویں یا چھٹے سال کی قرار دیا ہے اور میور نے اسے گیارھویں سال میں نازل ہونے والی قرار دیا ہے۔وہیری کہتا ہے اس میں بیان کردہ واقعات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ محمد (صلی ا للہ علیہ وسلم) کو کتاب مقدس کا بہت کم علم تھا اور جن لوگوں نے اسے بتایا وہ بھی بہت کم جانتے تھے اس کا جواب ہم اگلی آیتوں کی تفسیر میں دیںگے۔ترتیب سورۃ اس سورۃ کا تعلق پہلی سورتوں سے یہ ہے کہ سورۃ بنی اسرائیل میں اس سوال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ اسلام کس طرح ترقی کرے گا یہ بتایا گیا تھا کہ سلسلہ محمدیہ سلسلہ موسویہ سے مشابہ ہے جس طرح موسوی سلسلہ نے ترقی کی تھی اسی طرح اسلام بھی ترقی کرے گا۔