تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 150
فرماتے ہیں کہ اِنِّيْ خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَّرَآءِيْ۔خدایا میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے بھی ڈرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ان کے اندر دین کی خدمت کا کوئی احساس نہیں۔وَ كَانَتِ امْرَاَتِيْ عَاقِرًا۔اور پھر میری بیوی بھی بانجھ ہے اگر میں جوان ہوتا یا میری بیوی جوان ہوتی تو ہو سکتا تھا کہ میرے ہاں کوئی اولاد پیدا ہو جاتی۔کیونکہ بوڑھے مرد سے بھی جوان عورت کو بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح بعض دفعہ ادھیڑ عمر والی عورت اگر کسی جوان مرد سے شادی کر لے تو اس کے ہاں بھی بچے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں مگر فرماتے ہیں دنیا میں بچے پیدا ہونے کے جو اسباب ہوتے ہیں وہ نہ میرے اندر پائے جاتے ہیں اور نہ میری بیوی کے اندر پائے جاتے ہیں۔فَهَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا پس اے خدا تو مجھے اپنے پاس سے ایک ایسا شخص عطا فرما جو ہمارے خاندان کی اولادوں کا حافظ ہو اور ان کو دین پر قائم کرے۔يَرِثُنِيْ وَ يَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ جو میرابھی وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی وارث ہو۔یعنی جو میرے اندر قوم کی خدمت اور دین کی اشاعت کے لئے نیک جذبات پائے جاتے ہیں وہ بھی اس میں پائے جائیں اور اسی طرح بنی اسرائیل میں جو نیکیوں کا ورثہ چلا آتا ہے اور موسیٰ اور ہارون اور دائود اور سلیمان اور دوسرے انبیاء سے انہوں نے جو جو خوبیاں حاصل کی ہیں وہ سب کی سب اس میں پائی جائیں۔وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا۔اور اے میرے رب تو اس کو دنیا میں ایک پسندیدہ وجود بنا دے۔دیکھو یہ کیسی لطیف دعا ہے اور کس طرح دعا کے چاروں کونے اس میں پورے کر دئیے گئے ہیں۔اس دعا کو اگر ہم اپنے الفاظ میں بیان کریں تو اس کی یہ صورت ہو گی کہ ’’ اے میرے خدا میرےاندرونی قویٰ مضحل ہو گئے ہیں۔میرا بیرونی چہرہ مسخ ہو گیا ہے۔میں ہمیشہ سے ہی تیرے الطاف خسروانہ کا عادی ہوں۔اس لئے مایوسیاں اور ناکامیاں میں نے کبھی دیکھی نہیں۔ناز کرنے کی عادت مجھ میں پیدا ہو چکی ہے۔رشتہ دار میرے برے اور موت کے بعد گدی سنبھالنے کے منتظربیوی میری بیکار۔ان سب وجوہ کے ساتھ میں مانگنے آیا ہوں اور کیا مانگنے آیا ہوں یہ مانگنے آیا ہوں کہ اے میرے خدا تو مجھے بیٹا دے۔ایسا بیٹا دے۔جو میرا ہم خیال اور دوست ہو ایسا بیٹا دےجو میرے بعد تک زندہ رہنے والا اور میرے خاندان کو سنبھالنے والا ہو اور ایسا بیٹا دے جو میرے اخلاق اور آل یعقوب کے اخلاق کو پیش کرنے والا ہو گویا صرف میرے نام کو ہی زندہ نہ کرے بلکہ اپنے دادوں پر دادوں کے نام کو بھی زندہ کردے اور پھر وہ انسانوں ہی کے لئے باعث خوشی نہ ہو۔بلکہ اے میرے رب وہ تیرے لئے بھی باعث خوشی ہو۔‘‘