تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 146
ہی سمجھا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی اسی رنگ میں ایک جگہ خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ـ وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھرا ہے زباں چلتی نہیں شرم و حیا ہے حقیقت یہی ہے کہ کئی خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بندہ ایک مدت تک چھپائے رکھتا ہے اور کہتا ہے خدا تعالیٰ سے کیا مانگنا ہے لیکن کسی وقت محرک ایسا پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے دل کا راز سربستہ خدا تعالیٰ کے سامنے ظاہر کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے نِدَآءً خَفِيًّا میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ خدایا یہ میرے دل کا ایک راز تھا۔میری پہلے سے یہی خواہش تھی کہ مجھے بیٹا ملے مگر اب مریم کی بات میں نے سنی ہے تو اس خواہش کو دل میں چھپائے رکھنے کی طاقت نہیں رہی۔قَالَ رَبِّ اِنِّيْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّيْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ (اور) کہا اے میرے رب (میری حالت تو یقیناً ایسی ہے کہ ) میری تمام ہڈیاں تک کمزور ہو گئی ہیں اور (میرا) سر شَيْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا۰۰۵ بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے اور اے میرے رب میں (کبھی بھی ) تجھ سے دعائیں مانگنے کی وجہ سے ناکام (ونامراد ) نہیں رہا۔حل لغات۔اَلْوَھْنُ اَلْوَھْنُکے معنے ہیں ضَعْفٌ مِنْ حَیْثُ الْخَلْقِ اَوِ الْخُلُقِ (مفردات) یعنی خواہ پیدائش کے لحاظ سے کمزوری ہو یا اخلاق کے لحاظ سے کمزوری ہو اسے وھن کہتے ہیں پس وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْکے معنے ہوں گے کہ میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں۔تفسیر۔حضرت زکریا علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے میرے رب میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں۔قاعدہ یہ ہے کہ بڑھاپے میں ہڈیاں BRITTLE ہو جاتی ہیں یعنی ایسی نازک ہو جاتی ہیں کہ ذرا سی ٹھوکر سے بھی ٹوٹ جاتی ہیں اور ان کا جڑنا مشکل ہو جاتا ہے اسی لئے جو ان کی ہڈی تو جلدی جڑ جاتی ہے لیکن بوڑھے آدمی کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ آسانی سے نہیں جڑتی۔پس رَبِّ اِنِّيْ وَهَنَ الْعَظْمُ کے یہ معنے ہوئے کہ