تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 145
کو میں پسند نہیں کرتا تووہ علیحدگی میں دعا کرتا ہے تاکہ اس کے اضطراب اور اضطرار پر کوئی دوسرا مطلع نہ ہو۔یہاں حضرت زکریا کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا حضرت زکریا نے آہستہ آواز میں دعا کی یعنی وہ اس دعا میں دوسروں کو شریک کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔کیوں نہیں کرتے تھے؟ اس کا ہمیں سورۂ آل عمران سے پتہ چلتا ہے اور یہاں بھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اصل بات یہ ہے کہ جب کسی انسان کو الٰہی ارشادات سے یہ معلوم ہو کہ اب خدا تعالیٰ کا فیضان کسی اور طرف منتقل ہونے والا ہے تو چاہے وہ خود اللہ تعالیٰ کے انوار کا حامل ہو۔اس کے دل کو دکھ پہنچتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے ہاتھ سے وہ نور ختم ہو بلکہ وہ چاہتا ہے کہ خواہ ایک منزل پرے ہٹ کر نور ختم ہو بہرحال میں وہ آخری چراغ نہ بنوں جس پر آسمانی نور کا خاتمہ ہو۔سورۂ آل عمران سے پتہ چلتا ہے کہ مریم کی حالت دیکھ کرحضرت زکریا ؑ کو یہ شبہ پڑ گیا تھا کہ آنے والا اسرائیلی موعود مریم کے بطن سے پیدا ہونے والا ہے کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ایسے اشارے ہوئے کہ مریم کا خیال رکھو ادھر مریم نے چھوٹی عمر میں ایسی باتیںشروع کر دیں جو ان کی نیکی اور تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار پر دلالت کرتی تھیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے لئے اپنے نشانات دکھانے شروع کر دئیے اور لوگوں کے دلوں میں ان کے تقویٰ اور ان کی بزرگی کا احساس پیدا کر دیا۔چنانچہ کوئی کھانا لا رہا ہوتا ، کوئی پھل پیش کر رہا ہوتا اور کوئی اور چیز تحفتہً لا کر دے رہا ہوتا۔ادھر انہوں نے مریم کو دیکھا کہ اس کے دل میں کوئی دنیوی رغبت نہیں۔بچہ ہونے کے باوجود وہ محسوس کرتی تھیں کہ یہ نعمتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہیں اور اسی کے فضل اور احسان کا نتیجہ ہیں۔حضرت زکریا نے ان تمام باتوں کو دیکھ کر محسوس کیا کہ وہ موعود جس پر بنی اسرائیل کی نبوت کا خاتمہ مقدر ہے۔مریم کے پیٹ سے پیدا ہونے والا ہے ادھر ملا کی نبی اور بعض دوسرے انبیاء کی پیشگوئیاں ان کے سامنے تھیں جو بتا رہی تھیں کہ بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ اب ختم ہونے والا ہے۔پس حضرت زکریا نے اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ بنی اسرائیل میں نبوت کا فیضان اب ختم ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کی جس کا ان آیات میں ذکر آتا ہے اور کہا کہ اے میرے رب میرے دل میں دیر سے یہ خواہش پائی جاتی تھی مگر آج مریم کی بات سن کر میرا دل بےقرار ہو گیا ہے اور میں اپنے دل کا راز تجھ پر ظاہر کرنے کے لئے مجبور ہو گیا ہوں پس یہاں نَادٰی کے وہ معنے نہیں جو شور مچانے کے ہیں بلکہنَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا کے یہ معنے ہیں کہ اس نے خدا سے وہ راز سربستہ بیان کیا جو اس نے اپنے دل میں چھپایا ہوا تھااور خدا تعالیٰ سے مانگتا نہیں تھا مریم کی بات سن کر اس کے دل میں جوش پیدا ہوا اور اس نے اپنے رب سے اپنے درد کا اظہار کر دیا۔بیشک خدا تعالیٰ کے لئے کوئی چیز راز نہیں مگر جب تک کوئی دعا مانگی نہیں جائے گی اصطلاحاً اسے ایک راز