تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 144
چصفت رحمانیت کے ماتحت ہوتی ہیں اور مومن اور کافر سب کو ملتی ہیں اور ایک وہ رحمتیں ہوتی ہیں جو خاص طو رپر اعلیٰ درجہ کے کارکنوں کو ملتی ہیں۔جو جزاء کے طور پر ہوتی ہیں اور صفت رحیمیت کے ماتحت نازل ہوتی ہیں۔رَحْمَتُ رَبِّکَ میں صرف رحمت کا ذکر تھا۔یہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ یہ رحمانیت سے تعلق رکھنے والی رحمت ہے یا رحیمیت سے تعلق رکھنے والی رحمت ہے۔عَبْدَہٗ نے بتا دیا کہ یہ رحیمیت والی رحمت ہے وہ رحمت مراد ہے جو کسی کام کے نتیجہ میں نازل ہوتی ہے ایسے احسان کا ذکر نہیں جو بغیر خدمت اور کوشش کے صرف رحمانیت کے نتیجہ میں کیا جاتا ہے۔اگر صرف زکریا کہا جاتا تو یہ سارا مضمون غائب ہو جاتا لیکن عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا کہہ کر بتایا کہ ہم نے زکریا پر جو رحمت نازل کی وہ عام رحمت نہیں تھی بلکہ خود زکریا بھی بہت نیک تھے اور انہوں نے بڑی بڑی خدمات کی تھیں۔یہ سارا مضمون صرف و نحو کے چند اشاروں میں اللہ تعالیٰ نے ادا کر دیا ہے۔اس سے یہ بھی پتہ لگا کہ ایک دعا ایسے شخص کی ہوتی ہے جو رحمت کا مستحق نہیں ہوتا اور ایک دعا ایسے شخص کی ہوتی ہے جو رحمت کا مستحق ہوتا ہے مگر رحمت کی صفت بھیآپ ہی آپ ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے بھی بعض ایسی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس رحمت کو ابھارنے والی ہوں چنانچہ کبھی مشکلات کبھی دشمنوں کے مظالم اور کبھی اپنی بے کسی اور بے بسی انسانی قلب میں دعا کا ایک غیر معمولی جوش پیدا کر دیتی ہے اور آسمان سے اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو جاتی ہے۔گویا صفات الٰہیہ کا ظہور بعض خاص خاص محرکات کی وجہ سے ہوا کرتا ہے اس جگہ اس رحمت کے نزول کی کیا وجہ ہوئی اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں کیا ہے کہ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا یعنی حضرت زکریا کے پکارنے کی وجہ سے وہ رحمت آئی جو خالص خدمت گاروں کے لئے آیا کرتی ہے۔جیسا کہ اوپر بتا یا جا چکا ہے نَادٰی کے کئی معنے ہوتے ہیں جن میں سے ایک معنے بلند آواز سے پکارنے کے بھی ہیں مگر وہ معنے یہاں چسپاں نہیںہو سکتے۔کیونکہ اگر وہ معنے لئے جائیں تو پھر خَفِیًّا کے کوئی معنے نہیں بنتے۔پس یہاں لازماً کوئی اور معنے لینے پڑیں گے اور وہ معنے یہی ہیں کہ اس نے مخفی آواز میں اپنے دل کا بھید اس پر ظاہر کیا۔دنیا میں دو طرح کی دعائیں ہواکرتی ہیں۔ایک تو وہ دعا ہوتی ہے جس میں انسان دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے اور اس غرض کے لئے وہ بلند آواز سے دعائیہ کلمات کو دہراتا چلا جاتا ہے اور ایک دعا ایسی ہوتی ہے جو انسان علیحدگی میں کرتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اور بھی اس کے ساتھ شامل ہو جب ایسی دعا ہوتی ہے تو اس کا اصل مقام اخفاء ہوتا ہے۔یعنی آہستہ آہستہ دعا کرنا۔تاکہ دوسروں کے کانوں میں آواز نہ پڑے۔مثلاً اگر اس میں اضطراب اور اضطرار ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں نے لوگوں کے سامنے تضرع سے دعا کی تو میری آواز نکلے گی جس