تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 143
الدُّعَآءِ۔(آل عمران :۳۸،۳۹) یعنی حضرت زکریا علیہ السلام جو حضرت مریم کے کفیل تھے اور جن کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی وہ ایک دفعہ اپنی عبادت گاہ میں گئے اور انہوں نے دیکھا کہ حضرت مریم جو اس وقت چھوٹی بچی تھیں ان کے پاس کھانے پینے کی چیزیں پڑی ہوئی ہیں۔انہوں نے مریم سے پوچھا کہ اَنّٰى لَكِ هٰذَا بیٹی تمہیں یہ چیزیں کہاں سی ملی ہیں۔چھوٹے بچوں سے عام طور پر لوگ محبت او رپیار کی وجہ سے اس قسم کی باتیں پوچھا ہی کرتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ یہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں مفسرین اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے آسمان سے یہ چیزیں بھجوا دیا کرتا تھا(تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت آل عمران کلما دخل )۔حالانکہ یہاں آسمان سے آنے کا کوئی ذکر نہیں۔یہ جواب صرف اس نیک تربیت کا نتیجہ تھا جو حضرت مریم علیہماالسلام کی ہوئی تھی۔ہمارے گھروں میں بھی بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ جب کوئی تم سے پوچھے کہ فلاں چیز تمہیں کہاں سے ملی ہے تو تم یہ کہا کرو کہ خدا نے دی ہے۔حضرت مریم علیہا السلام نے جب یہ جواب دیا تو ایک تین چار سال کے بچہ کے منہ سے یہ بات سن کر کہ اللہ سب کچھ دیتا ہے یہ نعمتیں بھی اللہ نے ہی دی ہیں حضرت زکریا علیہ السلام کے دل پر چوٹ لگی اور انہوں نے خیال کیا کہ جب واقعہ یہی ہے کہ ہر چیز اللہ دیتا ہے اور ایک بچی بھی یہی کہہ رہی ہے تو میں تو سمجھدار اور تجربہ کار ہوں میں کیوں نہ یقین کروں کہ ہر چیز خدا ہی دیتا ہے۔چنانچہهُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ یہ جواب سن کر حضرت زکریا علیہ السلام کو توجہ ہوئی کہ میں بھی اپنی ضرورت کی چیز خدا تعالیٰ سے مانگوں۔میرے گھر میں بھی کوئی بچہ نہیں۔اگر مریم کی طرح میرے گھر میں بھی بچہ ہوتا اور میں اس سے پوچھتا کہ یہ چیز تمہیں کس نے دی ہے اور وہ کہتا کہ خدا نے تو جس طرح مریم کی بات سن کر میرا دل خوش ہوا ہے اسی طرح اپنے بچہ کی بات سن کر میرا دل خوش ہوتا۔پس حضرت مریم علیہا السلام حضرت یحییٰ کی پیدائش کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرانے کا ایک محرک ہو گئیں اور اس طرح بالواسطہ طور پر جہاں خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے ماتحت حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت مسیح کے ارہاص کے طور پر آئے وہاں حضرت مریم علیہا السلام جو حضرت مسیح کی والدہ تھیں حضرت یحییٰ کی پیدائش کے لئے ارہاص بن گئیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے حضرت زکریا کی دعا سنی اور ان کے گھر میں بچہ پیدا ہو گیا۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا یہاں خالی یہ نہیں فرمایا ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ زَكَرِيَّا بلکہ عَبْدَهٗ زَكَرِيَّا فرمایا ہے اس میں جیسا کہ میں آگے چل کر بتائوں گا ایک بہت بڑی حکمت ہے اور قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ ہر لفظ ایسے موقع پر استعمال کرتا ہے جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے کوئی لفظ