تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 142

نام تھے۔بہرحال حضرت زکریا کو انجیل نے گو کاہن قرار دیا ہے مگر قرآن کریم انہیں نبی قرار دیتا ہے اور اس جگہ زکریا سے وہی زکریا ؑ مراد ہیں جو حضرت مسیح ؑ کی والدہ کے کفیل تھے اور حضرت مسیح کے قریب ترین زمانہ میں گزرے ہیں۔عیسائیت کے تفصیلی ذکر سے پہلے حضرت زکریا ؑ کا ذکر کرنے کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہود میں یہ پیشگوئی پائی جاتی تھی کہ مسیح کی آمد سے پہلے ایلیاہ نبی کا آنا ضروری ہے۔چونکہ حضرت زکریا کے ہاں یحییٰ پیدا ہونے والے تھے اور حضرت یحییٰ ارہاص تھے مسیح ناصری کے۔یعنی وہ اس لئے آئے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کے لئے راستہ تیار کرتے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ وہ یہود کو حضرت مسیح سے واقف اور انٹرڈیوس کرانے کے لئے آئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے مسیح کے ذکر سے پہلے حضرت زکریا کا ذکر فرما دیا۔چنانچہ جب ہم بائبل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ملا کی نبی کی یہ پیشگوئی نظر آتی ہے کہ ’’دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجو ں گا۔‘‘ (ملا کی باب ۴ آیت ۵) اس جگہ ’’خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن‘‘ سے مراد حضرت مسیح ؑ کی آمد ہے۔چنانچہ جب مسیح ناصری نے دعویٰ کیا تو یہود نے یہی سوال کیا کہ وہ ایلیاہ جو آنے والا تھا وہ کہاں ہے؟ حضرت مسیح نے جواب دیا کہ اس سے مراد یوحنا ہے اور فرمایا کہ ’’چاہو تو مانو ایلیاہ جو آنے والا تھا یہی ہے۔‘‘ (انجیل متی باب ۱۱ آیت ۱۴) پس چونکہ حضرت یحییٰ جن کا انجیل میں یوحنا نام آتا ہے اور جو ایلیاء نبی کے بروز تھے جب تک ظاہر نہ ہوتے حضرت مسیح نہیں آ سکتے تھے۔اس لئے ضروری تھا کہ مسیح کے ذکر سے پہلے حضرت یحییٰ کی پیدائش کا ذکر کیا جاتا۔تا ملاکی نبی کی پیشگوئی کے پورا ہونے کی طرف اشارہ کر دیا جاتا اور لوگوں کو بتا دیا جاتا کہ دیکھو وہ ایلیا ہ بھی آ گیا جس کی ملا کی نبی نے خبر دی تھی اور پھر ہمارا مسیح بھی دنیا میں ظاہر ہو گیا۔دوسری وجہ قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش کا موجب حضرت مریم علیہا السلام ہوئیں۔چنانچہ سورہ ٔ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ يٰمَرْيَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِيْعُ