تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 122

کے درمیان اس وقت پانچ سات سو بلکہ ہزار میل کا فاصلہ تھا۔انہوں نے یہ کب دیکھا کہ یوناہ مچھلی کے پیٹ میں گیا ہے یا مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا ہے یا مچھلی کے پیٹ میں سے زندہ نکلا ہے پس ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں تھی جو نینوہ والوں نے دیکھی ہو۔جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گیا تب بھی نینوہ والوں نے اسے نہیں دیکھا۔جب وہ مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا تب بھی نینوہ والوں نے اسے نہیں دیکھااور جب مچھلی نے اسے اُگل دیا تب بھی نینوہ والوں نے اسے نہیں دیکھا لیکن جب یوناہ نینوہ والوں کے پاس دوبارہ گیا اور انہوں نے دیکھا کہ یہ وہ شخص ہے جو ڈر کر بھاگ گیا تھا مگر پھر خدا تعالیٰ اسے پکڑ کر واپس لایا ہے اور جس جگہ کے متعلق یہ سمجھتا تھا کہ وہاں مجھے کامیابی نہیں ہوگی وہیں اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابی عطا فرمائی ہے تو یہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کی طاقتوں کا ایک بہت بڑا نشان بن گیا جو انہوں نے دیکھا اور مسیح نے اپنے متعلق بھی یہی کہا تھا کہ ’’ جس طرح یوناہ نینوہ کے لوگوں کے لئے نشان ٹھہرا اسی طرح ابن آدم بھی اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ٹھہرے گا۔‘‘ (لوقا باب ۱۱ آیت ۳۰) اب سوال یہ ہے کہ نینوہ والوں نے کیا دیکھا تھا۔نینوہ والوں نے یوناہ کو مچھلی کے پیٹ میں جاتے نہیں دیکھا۔مچھلی کے پیٹ میں رہتے نہیں دیکھا مچھلی کے پیٹ میں سے نکلتے نہیں دیکھا۔نینوہ والوں نے یہی دیکھا کہ ایک شخص پر الہام نازل ہوا کہ جا اور نینوہ والوں کو ہماری طرف بلا۔مگر اسے جرات نہ ہوئی کہ وہ خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچائے۔اور اس نے بھاگ کر کسی اور ملک کو جانا چاہا مگر کئی مصیبتوں اور تکلیفوں کے بعد خدا تعالیٰ اسے پھر نینوہ والوں کے پاس لایا اور نینوہ والے اس کا پیغام ماننے پر مجبو رہو گئے۔پس اگر کوئی نشان ایسا ہے جو نینوہ والوں نے دیکھا تو وہ یہی نشان ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک مچھلی کے پیٹ میں ان کا جانا ہے یہ بھی ایک نشان ہے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنا یہ بھی ایک نشان ہے اور مچھلی کے پیٹ میں سے زندہ نکلنا یہ بھی ایک نشان ہے مگر یہ نشانات ایسے ہیں جو نینوہ والوں نے نہیں دیکھے انہوں نے جو نشان دیکھا وہ یہی ہے کہ یوناہ نبی کے دل میں وسوسہ پیدا ہوا اور وہ وہاں سے چلا گیا۔اس نے نہ چاہا کہ نبوت کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔لیکن خدا اُسے سینکڑوں میل سے مجبورکر کے اور کئی قسم کی تکلیفوں میں سے گزار کر پھر اسے اپنی قوم کے پاس لایا اور خدا تعالیٰ نے وہ مشن پورا کر کے دکھا دیا جس کے لئے اس نے یوناہ کو کھڑا کیا تھا۔لوگوں نے ان کا انکار بھی کیا ، مقابلہ بھی کیا مگر آخر قوم کو جھکنا پڑا۔یہ نشان تھا جو نینوہ والوں نے دیکھا پس مسیح کے لئے بھی یہ نشان اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب مسیح قبر میں زندہ جائے، قبر میںزندہ رہے اور قبر میں سے زندہ نکلے۔مگر اتنا حصہ وہ ہوگا جس کو دشمن نے نہیں د یکھا۔اس کے بعد نشان