تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 121

یہ چار چیزیں ہیںجو یوناہ نبی کے واقعہ سے نکلتی ہیں۔اگر مسیحی کہانی صلیبی موت کی ٹھیک ہے تو پھر یہ چاروں باتیں غلط ثابت ہوتی ہیں (۱)اگر مسیح صلیب پر مر گیا اور زندہ قبر میں نہیں گیا اور (۲)اگر مسیح قبر میں تین دن رات مرا رہا بلکہ دوزخ میں رہا۔تو یوناہ نبی سے اس کی کوئی مشابہت ثابت نہیں ہو سکتی۔کیونکہ یوناہ نبی تین دن رات مچھلی کے پیٹ میںزندہ رہا۔اور اس کی خدا تعالیٰ سے صلح رہی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتا رہا۔لیکن مسیح اول تومر کر قبرمیں گیا اور پھر دوزخ میں رہا۔گویا وہ خد اتعالیٰ سے دور ہو گیا۔(۳)اسی طرح اگر مسیح قبر میں سے دوبارہ زندہ ہو کر نکلے ہیں تو اس صورت میں بھی وہ یوناہ نبی کے مثیل نہیں ہو سکتے۔کیونکہ یوناہ نبی مچھلی کے پیٹ سے دوبارہ زندہ ہو کر نہیںنکلے وہ پہلے بھی زندہ تھے، مچھلی کے پیٹ میں بھی زندہ رہے اور زندہ ہی مچھلی کے پیٹ میں سے نکلے۔(۴)اگر قبر میں سے جی اٹھنے کے بعد مسیح کا مشن ختم ہو گیا جیسے مسیحیت کہتی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کے گناہوں کے کفارہ کے طور پر پہلے تین دن دوزخ میں رہااور جب وہ دوبارہ جی کر اٹھا تو آسمان پر اپنے باپ کے تخت پر بیٹھنے کے لئے چلا گیا۔تو اس کی یوناہ نبی سے کوئی بھی مشابہت باقی نہیں رہتی۔کیونکہ یوناہ نبی کا تو یہ معجزہ تھا کہ اسے مچھلی کے پیٹ میں سے نکلنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک کامیاب تبلیغ کا موقع عطا فرمایا اور درحقیقت اصل معجزہ یہی تھا کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ دیکھو یوناہ نے میری بات کو رد کیا اور وہ میرا پیغامبر نہ بنا وہ ڈرا کہ میں لوگوں میں ذلیل ہوں گااور لوگ مجھے قبول نہیں کریںگے۔چنانچہ وہ بھاگا لیکن ہم نے اسے مچھلی کے پیٹ میںڈالا اور پھر مچھلی کے پیٹ میںزندہ رکھا اور آخر ہم نے مچھلی کو حکم دیا تو اس نے یوناہ کو خشکی پر اگل دیا۔اس کے بعد ہم نے پھر اسے نینوہ میں ہی بھجوایا اور اس نے تبلیغ کی اور وہ اپنی تبلیغ میں کامیاب رہا۔اس طرح خدا تعالیٰ نے اس بات کا اظہار کیا کہ جس شخص کو خدا اپنا پیغامبر بناتا ہے وہ اپنے آپ کو خواہ کتنا بھی کمزور خیال کرے اور خواہ دنیا کے لوگ اسے کتنا بھی حقیر سمجھیں اللہ تعالیٰ یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ اسی کے ذریعہ اپنے پیغام کو کامیاب کرے اور لوگوں میں اسے مقبول بناوے۔یہ ہے یوناہ کا اصل نشان جو نینوہ والوں کو دکھایا گیا لیکن مسیح کا واقعہ جس رنگ میں عیسائی پیش کرتے ہیں اگر اسے درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کی یوناہ سے کوئی بھی مشابہت ثابت نہیںہو سکتی۔کیونکہ یوناہ نبی کا اصل معجزہ یہ تھا کہ اسے تبلیغ کا موقعہ دیا گیااور لوگوں نے دیکھا کہ وہی جو اپنی کمزوری کی وجہ سے ڈر کر بھاگ گیا تھا ایک کامیاب مصلح ثابت ہوا اور لوگوں نے اس کو قبول کر کے اپنے اندر تبدیلی پیدا کی۔ورنہ یوناہ نبی جب مچھلی کے پیٹ میں گئے تھے نینوہ والوں نے ان کو نہیں دیکھا تھا۔یوناہ جب مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے تب بھی نینوہ والوں نے ان کو نہیں دیکھا تھا۔یوناہ جب مچھلی کے پیٹ میں سے زندہ نکلے تب بھی نینوہ والوں نے ان کو نہیں دیکھا تھا۔ان کے اور نینوہ والوں