تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 120
سے کہ نبی جب تبلیغ کرتے ہیںتو انہیں کچھ انذاری پیشگوئیاں بھی ملتی ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ رحم کر کے اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے اور اس طرح انہیں شرمندہ ہونا پڑتا ہے، انہوں نے ایک دوسرے ملک کو بھاگ کر جانا چاہا تاکہ وہ اس ذلت سے بچ سکیں جو انہیں اپنی قوم سے پہنچ سکتی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ وہ نینوہ کے لوگوں کی طرف ہی جائیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں۔چنانچہ اس نے تدبیر کر کے انہیںسمندر میں پھینکوادیا۔اور پھر ایک بڑی مچھلی کو انہیں نگل جانے کا حکم دے دیا جس نے انہیں زندہ نگل لیا۔چنانچہ بائبل کے بیان کے مطابق وہ مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے اور دعائیں زند ہ شخص ہی کیا کرتا ہے نہ کہ مردہ۔پس مچھلی کے پیٹ میں وہ زندہ گئے اور مچھلی کے پیٹ میں جب تک رہے زندہ رہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق مچھلی نے آپ کو اگل دیا۔سمندر میں نہیں بلکہ خشکی پر اور پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نینوہ کے لوگوں کی تبلیغ کے لئے بھجوایا گیا۔چنانچہ وہ گئے اور اپنی تبلیغ میں کامیاب ہوئے۔اس معجزہ سے ظاہر ہے کہ (۱)یوناہ نبی مچھلی کے پیٹ میںزندہ گیا۔(۲)وہ مچھلی کے پیٹ میں تین دن رات زندہ رہا۔(۳)وہ مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکلا۔(۴)اس کا اصل تبلیغ کا زمانہ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد شروع ہوا۔پہلے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا ہی نہیں کہ مجھے تمہاری اصلاح کے لئے بھجوایا گیا ہے۔ممکن ہے چند لوگوں سے انہوں نے ذکر کیا ہو لیکن عام لوگوں کو ان کے مشن کی کوئی خبر نہیں تھی۔وہ وہاں سے بھاگے اورانہوں نے چاہا کہ ایک دوسرے ملک کو نکل جائیں لیکن مچھلی کے واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر ان کو اپنے ملک میںبھجوا کر کہا کہ اب تبلیغ کرو۔چنانچہ انہوں نے تبلیغ کی اور لوگ آپ پر ایمان لائے۔اس نشان کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد کوئی شخص ا س امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ یہ واقعہ اسی صورت میں مسیح پر چسپاں ہو سکتا ہے۔جب اول۔مسیح زندہ قبر میں جائے۔دوم۔مسیح زندہ قبر میںرہے۔سوم۔مسیح زندہ قبر میں سے نکلے۔چہارم۔قبر سے نکلنے کے بعد اسے ایک کامیاب تبلیغ کا زمانہ میسر آئے۔