تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 119
بدلے اور اپنے قہر شدید سے باز آئے اور ہم ہلاک نہ ہوں جب خدا نے ان کی یہ حالت دیکھی کہ وہ اپنی اپنی بری روش سے باز آئے تو وہ اس عذاب سے جو اس نے ان پر نازل کرنے کو کہا تھا باز آیا اور اسے نازل نہ کیا۔لیکن یوناہ اس سے نہایت ناخوش اور ناراض ہوا اور اس نے خداوند سے یوں دعا کی کہ اے خداوند جب میںاپنے وطن ہی میں تھا اور ترسیس کو بھاگنے والا تھا تو کیامیں نے یہی نہ کہا تھا۔میں جانتا تھا کہ تو رحیم و کریم خدا ہے جو قہر کرنے میںدھیما اور شفقت میں غنی ہے اور عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔اب اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ میری جان لے لے کیونکہ میرے اس جینے سے مرجانا بہتر ہے تب خداوند نے فرمایا کیا تو ایسا ناراض ہے۔اور یوناہ شہر سے باہر مشرق کی طرف جا بیٹھااور وہاں اپنے لئے ایک چھپر بنا کر اس کے سایہ میں بیٹھ رہا کہ دیکھے شہر کا کیا حال ہوتا ہے۔تب خداوند خدا نے کدو کی بیل اگائی اور اسے یوناہ کے اوپر پھیلا یا کہ اس کے سر پر سایہ ہو اور وہ تکلیف سے بچے۔(بائبل کہتی ہے اس نے پہلے چھپر بنایا اور پھر خدا نے کدو کی بیل اُگائی حالانکہ چھپر کے بعد بیل کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی چھپر زیادہ آرام دہ ہوتا ہے مگر قرآن کریم میں چھپر کا کوئی ذکر نہیں کیا گیاخالی بیل کا ذکر کیا گیا ہے (الصّٰفّٰت:۱۴۷)جو ثبوت ہے کہ قرآنی بیان ہی صحیح ہے اور عقل کے مطابق ہے) اور یوناہ اس بیل کے سبب سے نہایت خوش ہوا لیکن دوسرے دن صبح کے وقت خدا نے ایک کیڑا بھیجا جس نے اس بیل کو کاٹ ڈالا۔اور وہ سوکھ گئی اور جب آفتاب بلندہوا تو خد انے مشرق سے لو چلائی اور آفتاب کی گرمی نے یوناہ کے سر میں اثر کیا اور وہ بیتاب ہو گیا اور موت کا آرزو مند ہوکرکہنے لگا کہ میرے اس جینے سے مر جانا بہتر ہے اور خدا نے یوناہ سے فرمایا کیا تو اس بیل کے سبب سے ایسا ناراض ہے اس نے کہا میںیہاں تک ناراض ہوں کہ مرنا چاہتا ہوں تب خداوند نے فرمایا کہ تجھے اس بیل کا اتنا خیال ہے جس کے لئے تو نے نہ کچھ محنت کی اور نہ اسے اُگایا جو ایک ہی رات میں اُگی اور ایک ہی رات میں سوکھ گئی اور کیا مجھے لازم نہ تھا کہ میں اتنے بڑے شہر نینوہ کا خیال کروں۔جس میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ ایسے ہیں جو اپنے دہنے اور بائیں ہاتھ میں امتیاز نہیں کر سکتے اور بے شمار مویشی ہیں۔‘‘ (یوناہ باب ۱ تا ۴) یہ ہے وہ یوناہ نبی کا واقعہ جس کی طرف حضرت مسیح اشارہ کرتے ہیں۔اس واقعہ کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یوناہ نبی کو جب یہ الہام ہوا کہ جا اور اپنی قوم کوتبلیغ کر۔تو بجائے اس کے کہ وہ اپنی قوم کو تبلیغ کرتے اس خیال