تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 114
کرنے کے لئے آیا ہے (۲)اس پر کہ مسیح نجات دہندہ ہے (۳)اس پر کہ مسیح کو ویسا ہی معجز ہ دیا گیا ہے جیسے یوناہ نبی کو دیا گیا تھا۔پس مسیحیت کی بنیاد اس معجزہ پر ہے بلکہ مسیحیت اس کو ہی ایک حقیقی معجزہ قرار دیتی ہے اور تمام ابتدائی زمانہ کے نقوش اور تصاویر جن کا مسیحیت کے لٹریچر سے پتہ لگتا ہے وہ بھی اسی طرف راہنمائی کرتی ہیں یعنی گڈریا کی تصویر جسے اپنی بھیڑوں سمیت دکھایا گیا ہے۔نوح ؑ کی کشتی کی تصویر اور یوناہ نبی کے مچھلی کے پیٹ میں جانے کی تصویر۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحیت کا اصل معجزہ یہی تھا خود مسیح بھی اسے اپنا منفرد اور اصل معجزہ قرار دیتا ہے انجیل میں لکھا ہے حضرت مسیح ؑ وعظ کر رہے تھے کہ ’’ بعض فقیہوں اور فریسیوں نے جواب میں اس سے کہا اے استاد ہم تجھ سے ایک نشان دیکھنا چاہتے ہیں (یعنی ہم ماننے کے لئے تو تیار ہیں لیکن دلائل سے ہماری تسلی نہیں ہوتی ہمیں کوئی نشان دکھایا جائے)اس نے جواب دے کر ان سے کہا اس زمانہ کے برے اور زنا کار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔کیونکہ جیسے یوناہ تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندر رہے گا۔‘‘ (متی باب ۱۲ آیت ۳۸تا۴۰) مسیح ؑنے اس سوال کے جواب میں یہ نہیں کہا کہ میں تم کو اور کئی نشان دکھا چکا ہوں تم ان سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے۔اسی طرح مسیح ؑنے یہ نہیں کہا کہ میں تم کو کئی نشان دکھائوں گا۔بلکہ مسیح نے کہا کہ یوناہ نبی کے نشان کے سوا ان کو اور کوئی نشان نہیں دکھایا جائے گایہ بتاتا ہے کہ مسیح ؑ اپنے اس نشان کو ایک ہی نشان قرار دیتا ہے ظاہر ہے کہ خدا کا کوئی نبی ایسا نہیںہو سکتا جس نے ایک ہی نشان دکھایاہو خود انجیل سے ظاہر ہے کہ مسیح نے اور بھی کئی نشان دکھائے ہیں۔پس مسیح کا یہ کہنا کہ ’’ یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا‘‘ اس کے معنے یہ ہیں کہ جہاں تک یہودیت کا تعلق ہے بنیادی نشان مسیح کو یوناہ نبی والا ہی دیا جائے گا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ابتدائی زمانہ کے مسیحیوں کی شہادت سے بھی یہی بات ثابت ہے اور درحقیقت ابتدائی زمانہ کا عیسائی ہی اس بات کا اہل تھا کہ وہ یہ سمجھتا کہ عیسائیت کی کیا غرض ہے ان کی تصویروں میں سے پہلی تصویر ہی یوناہ نبی کے واقعہ سے تعلق رکھتی ہے جو بتاتی ہے کہ ابتدائی زمانہ کے مسیحی یہ تسلیم کرتے تھے۔کہ یوناہ نبی والا نشان ہی مسیح کا اصل نشان ہے۔باقی دو تصویریں اس پہلی تصویر کے تابع ہیں یعنی یوناہ نبی والے نشان میں ہی نجات بھی شامل ہے اور یوناہ نبی والے نشان