تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 113
چھین لیتے۔مگر ظلم زیادہ دیر تک نہیں چلا کرتا۔پہلے کچھ عرصہ مارتے پیٹتے اور پھر چھوڑ دیتے جیسے آجکل ہندوستان میں ہندوئوں کو بعض مقامات پر جوش آتا ہے اور وہ مسلمانوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں مگر کچھ عرصہ کے بعد خاموشی ہو جاتی ہے۔پھرکسی اور علاقہ میں ظلم شروع ہو جاتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد وہاں بھی خاموش ہو جاتی ہے۔ان کا بڑا مرکز ایک تو روم تھا دوسرا مرکز انطاکیہ تھا اور تیسرا مرکز اسکندریہ تھا۔ان تینوں جگہ عیسائی پادریوں پر حملے ہوتے تھے اور دشمن انہیں یا تو مار دیتا یا زخمی کر دیتا۔ان متواتر حملوں کی وجہ سے عیسائی بعض دفعہ اپنے گھروں یا محلوں میں چھپ جاتے یا بھاگ کر اردگرد کے گائوں میں چلے جاتے یا اپنی رہائش کے لئے زمین دوز جگہیں بنا لیتے۔اس زمانہ میں یہ رواج تھا کہ بعض لوگ اپنی قبریں تہ خانوں میں بناتے تھے اور ان کے لئے زمین سے پتھر نکال کر لاتے تھے۔ان پتھروں کے نکالنے سے جو زمین میں گڑھے بن جاتے تھے انہی کو صاف کر کے عیسائی ان میں رہنا شروع کر دیتے تھے۔روم میں ایسی کئی جگہیں ہیں جہاں عیسائی ایک لمبے عرصہ تک چھپے رہے۔اور جن کو کیٹا کومبز (Catacombs)کہتے ہیں۔ان میں ابھی تک ایسی تصویریں ہیں جو دینی روح قائم رکھنے یا اپنے شہداء کی یاد تازہ رکھنے کے لئے انہوں نے کھینچی ہوئی ہیں۔اسی طرح قبروں پر کئی جگہ کتبے لگے ہوئے ہیں۔اور ان میں یہ ذکر ہے کہ یہ کس کی قبر ہے اور کس طرح شہید ہوا ہے ان غاروں کا ایک حصہ میں نے بھی دیکھا ہے سارا تو دیکھا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ستر میل تک یہ علاقہ پھیلا ہوا ہے۔بہرحال ان کیٹا کومبز کے دیکھنے سے پرانی عیسائی تاریخ کا پتہ لگ جاتا ہے کیونکہ مسیحیت کے پھیلنے سے پہلے کے مظالم کا نقشہ ان آثار کو دیکھنے سے آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اور کتبوںکی عبارات اور تصویروں سے پتہ لگتا ہے کہ اس وقت مسیحیوں کے کیا عقائد تھے۔تیسری صدی مسیحی میں روم کا بادشاہ عیسائی ہو گیا تھا(انسائیکلو پیڈیا برٹینکا زیر لفظ کانٹسٹائن) اور پھر مسیحیت کو طاقت حاصل ہو گئی تھی۔اس سے پہلے زمانہ سے تعلق رکھنے والی جس قدر باتیں ہیں ان کا پتہ انہی کیٹا کومبز کے دیکھنے سے لگتا ہے۔ان کیٹا کومبز میں ہمیں زیادہ تر تین تصویریں ملتی ہیں۔ایک نوح کی کشتی کی۔ایک گڈریا کی جس کے اردگر د بھیڑیں ہیںاور ایک یوناہ نبی کی جسے مچھلی نگل رہی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی تاریخ میں عیسائی مذہب کی بنیاد صرف تین چیزوں پر رکھی گئی تھی یا یوں کہو کہ تین مسئلے تھے جو عیسائیت کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتے تھے۔گڈریا کی تصویر میں اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح کی یہود کی گم گشتہ بھیڑوں کو جمع کرنے کے لئے آیا ہے۔نوح کی کشتی کے یہ معنے تھے کہ مسیح ہمارا نجات دہندہ ہے اور یوناہ نبی کی تصویر سے وہ معجزہ مراد تھا جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔گویا ان تین تصویروں کے ذریعہ اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا تھاکہ مسیحیت کی بنیاد انہی تین باتوں پر ہے (۱)اس پر کہ مسیح اپنی گم گشتہ بھیڑوں کو جمع