تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 103
لوگوں کی نسبت زیادہ گنہگار تھا۔کہنے لگا کیا مٹی میں سے سونا نہیں نکلتا؟ میں نے کہا ہمارا اور آپ کا سارا جھگڑا ہی یہی ہے۔اگر مٹی میں سے سونا نکل سکتا ہے تو پھر آدم کو آپ بے شک گنہگار کہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی مانیں کہ اس کی اولاد نیک ہو سکتی ہے ضروری نہیں کہ وہ گنہگار ہی ہو۔اب جو میں نے اس طرح پکڑا تو کہنے لگا مٹی میں سے سونا نہیں نکلتا، سونے میں سے سونا نکلتا ہے۔آدم چونکہ گنہگار تھا اس لئے اس کی اولاد بھی ضرور گنہگار ہو گی وہ نیک نہیں ہو سکتی کیونکہ سونے میں سے سونا نکلتا ہے میں نے کہا تو پھر حوا کا بیٹا دوسروں سے زیادہ گنہگار ماننا پڑے گا کیونکہ حوا آدم سے زیادہ گنہگار تھی۔اس نے نہ صرف خود رخت کا پھل کھایا بلکہ آدم کو بھی کھلایا اور اس طرح وہ دوہری گنہگار بنی۔اس پر وہ پھر جھنجلا کر کہنے لگا مٹی کی کان میں سے سونا نہیں نکلتا۔کان مٹی کی ہوتی ہے مگر اندر سے سونا نکل آتا ہے میں نے کہا تو پھر آدم کے متعلق بھی یہی نظریہ تسلیم کریں کہ گو وہ گنہگار تھا مگر اس کی اولاد میں سے ایسے لوگ بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو نیک ہوں اور ہر قسم کے عیوب سے پاک ہوں۔اب عیسائیوں کے لئے صرف ایک ہی پہلو رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ مسیح کے متعلق وہ یہ کہیں کہ اس کے ماں باپ کے گناہ کا کوئی سوال پیدا نہیں ہو سکتا۔وہ ابن اللہ تھا اور اپنی ذات میں ہر قسم کے گناہوں سے پاک تھا۔اس کے متعلق یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ حوا کی نسل میں سے ہونے کی وجہ سے وہ دوسروں کی نسبت کم گنہگار تھا یا زیادہ گنہگار تھا۔وہ بوجہ ابن اللہ ہونے کے گناہ سے پاک تھا۔گویا اس کا پاک ہونا ماں کے بطن سے پیدا ہونے کے سبب سے نہیں تھا بلکہ ابن اللہ ہونے کی وجہ سے تھا۔اس پر ہمارا یہ اعتراض ہے کہ اگر مسیح کے بغیر باپ کے پیدا ہونے میں کوئی خاص حکمت نہیں تھی اور ابن اللہ ہونے کی وجہ سے اس نے ماں باپ کا اثر قبول نہیں کرنا تھا تو اگر اس کا باپ ہوتا تب بھی اس نے اس کے اثر کو قبول نہیں کرنا تھا۔اگر مسیح ایک شادی شدہ عورت کے گھر میں پیدا ہوتا اور اس کا باپ ہوتا تو پھر بھی اس نے آدم اور حوا کے اثر کو قبول نہیں کرنا تھا۔کیونکہ اس کی اصل حیثیت ابن اللہ کی تھی۔پھر خدا نے یہ کیا ظلم کیا کہ اس نے گنہگار تو ہونا نہیں تھا مگر پھر بھی اس نے مسیح کو ایسے رنگ میں پیدا کیا کہ وہ ساری دنیا میں ذلیل ہو گیا اور جہاں بھی لوگ بیٹھتے یہی کہتے کہ وہ نعوذ باللہ حلال زادہ نہیں جب اس نے نہ باپ کا اثر قبول کرنا تھا نہ ماں کا اثر قبول کرنا تھا تو اس جھگڑے کی ضرورت کیا تھی اور خدا نے مریم اور مسیح کو ایک گندے الزام کے نیچے رکھ کر کیوں تکلیف دی جب وہ ابن اللہ تھا اور اپنی ذات میں ہر قسم کے گناہوں سے پاک تھا تو اسے باپ او رماں دونوں سے پیدا کرنا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنے زور سے پاک ہوتا اور ولدالزنا ہونے کے الزام سے بھی بچتا۔