تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 91
اعلیٰ معنے دیتا ہے یاادنیٰ۔اس جگہ چو نکہ موقعہ اعلیٰ معنو ں کے اظہارکا ہے۔اس لئے الذِّكْرَ کے معنے اعلیٰ شرف والی کتاب کے ہوں گے یازیادہ مکمل کتاب کے۔اورمطلب یہ ہوگاکہ پہلوںکوتوبیّنات اورزُبر ملتے رہے ہیں تجھے بیّنات اورالذکر ملے ہیں جوان کے انعام سے زیادہ ہے۔پس اگر تیری کتاب سے ادنیٰ درجہ کی کتب کی مددسے پہلے انبیاء اپنے دشمنوں کوشکستیں دیتے رہے ہیںتوتُو ان سے اعلیٰ الہام کامورد ہوکر کیوں اپنے دشمنوں کو شکست نہ دے سکے گا۔ان معنوں کے روسے الذِّكْرَ کاالف لام کما ل کے معنوں میں لیاجائے گا۔اس آیت میں ذکر کے دوسرے معنی بھی چسپاں ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ ذکر کے جو دوسرے معنے ہیں۔وہ بھی اس سے مراد ہوسکتے ہیں۔اوروہ یہ ہیں (۱)دعا(۲)محکم۔مضبوط(۳)ثناء۔تعریف (۴) کسی چیز کااس طرح ذہن میں رکھنا کہ وہ بھول نہ سکے۔ان معنوں کے روسے آیت کے معنے ہوں گے کہ ہم نے تجھے جو کتاب دی ہے۔اس میں خاص خوبی یہ ہے کہ وہ کامل دعائوں پر مشتمل ہے اوراس وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کے خا ص فضل جذب کرنے کاموجب ہوگی۔اورپھر وہ محکم تعلیمات پر مشتمل ہے۔اس لئے کوئی اعتراض اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔اورپھر وہ ثناء ہے جو لو گ اس سے تعلق رکھیں گے ان کی تعریف کاموجب ہوگی۔ان کے اخلاق اوراعما ل کو ایسابنادے گی کہ دنیا ان کی تعریف کرے گی یایہ کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کامل ثناء ہے اس وجہ سے ماننے والوں کا عرفان بڑھے گا۔پھر وہ ایسی مقبول ہو گی کہ اُسے بھلایانہ جائے گاہروقت لوگ اس کی تلاوت میں مشغول رہیں گے۔لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ۔لِتُبَيِّنَ کالام لام تعلیل بھی ہوسکتا ہے اورلام عاقبت بھی۔لام تعلیل کی صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے تجھ پر دوسری کتب سے اعلیٰ خوبیوں والی کتاب اتاری ہے تاکہ تو سب دنیا کو وہ تعلیم سنائے جو ان کے لئے اتاری گئی ہے۔یعنی تجھ پر اترنے والی تعلیم کا سب سے اعلیٰ ہونا اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی ایک قوم یاایک زمانہ کے لوگوں کے لئے نازل نہیں کیا۔بلکہ سب لوگوں کے لئے نازل کیا ہے۔خواہ وہ کسی قوم کے ہوں یاکسی زمانہ کے ہوں۔لام عاقبت کی صورت میں یہ معنے ہوں گے کہ چونکہ تجھ پر اعلیٰ کتاب نازل ہوئی ہے اس لئے تواسے مخفی کس طرح رکھ سکتاتھا۔اس اعلیٰ کتاب کانزول اس کاباعث ہواہے۔کہ توسب دنیا کو اس کی طرف بلارہاہے۔ایسی کتاب جس پر نازل ہو وہ خاموش کس طرح رہ سکتاہے۔نُزِّلَ اِلَيْهِمْ کے الفاظ سے دو باتوں کی طرف اشارہ نُزِّلَ اِلَيْهِمْ کہہ کر کفار کے جذباتِ محبت کو ابھاراہے۔یعنی گوکتاب تجھ پرنازل ہوئی ہے۔لیکن چونکہ غرض یہ ہے کہ اس کتاب سے سب دنیا فائدہ اٹھائے اس