تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 90
نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ کے الفاظ سے کیاگیا۔بِالْبَيِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ (ہم نے انہیں)روشن نشانات اور(الہامی)نوشتے دےکر (بھیجاتھا )اورتجھ پر ہم نے یہ (کامل)ذکر نازل کیا ہے لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَ تاکہ تُو سب لوگوںکو وہ(فرمان الٰہی )جو(تیرے ذریعہ سے )ان کی طرف نازل کیاگیا ہے کھول کربتائے لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۰۰۴۵ اورتاکہ وہ (اس پر )تدبرکریں۔حَلّ لُغَات۔بِالْبَیِّنٰتِ۔اَلْبَیِّنَاتُ اَلْبَیِّنَۃُ کی جمع ہے۔اوراَلْبَیِّنَۃُ کے معنے ہیں۔اَلدَّلِیْلُ اَلْحُجّۃُ۔دلیل(اقرب) الزُّبُر زَبَرہٗ( یَزْبُرُ) زَبْرًا کے معنے ہیں :رَمَاہُ بِالْحِجَارَۃِ۔اس کو پتھر مارے۔زَبَرالْکِتَابَ (یَزْبِرُ۔یَزْبُرُ):کَتَبَہٗ۔کتاب کولکھا۔وَزَادَ فی مُفْرَدَاتِ الرَّاغِبِ کِتَابَۃً غَلِیْظَۃً۔اورمفردات میں زَبَرَکے معنے موٹی قلم یا گہری روشنائی سے لکھنے کےآئے ہیں۔زَبَرَالسَّائِلَ:اِنْتَھَرَہٗ۔سائل کوڈانٹا۔زَبَرَعَنِ الْاَمْرِ:مَنَعَہٗ وَنَھَاہٗ۔کسی کام سے روکا۔اَلزِّبْرُ کے معنے ہیں۔اَلْکِتَابُ۔کتاب۔اس کی جمع زُبُوْرٌ ہے اور الزَّبُوْرُ کے معنے ہیں اَلْفِرْقَۃُ۔حصہ۔الْمِلْکُ۔ملک۔اَلْکِتَابُ۔کتاب۔کیونکہ یہ بھی لکھی جاتی ہے۔اس کی جمع زُبُرٌ ہے (اقرب) تفسیر۔اس آیت میں پہلے مضمون کی مزید تشریح اس آیت میں پہلی آیت کے مضمون کی مزید تشریح کی ہے اوربتایا ہے کہ نبی بیّنات اورزُبر لے کر آتے رہے ہیں۔یعنی نشانات اوراحکام الٰہی لانا ہی ان کی غرض تھی اور انہی دونوں سامانوں سے ان کی ترقی ہوتی رہی ہے۔اس جگہ الذّکْرَ سے مراد اعلیٰ شرف والی کتاب کے ہیں وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ کے گولفظی معنے تویہی ہیںکہ تجھ پر ہم نے ذکر اتاراہے۔لیکن چونکہ یہ زُبُر کے مقابل پر ہے جس کے معنے کتاب کے ہیں یعنی اس وحی کے جس کاماننا فرض ہو۔اس لئے ذکر کے معنے اس جگہ خا ص ہوجائیں گے۔کیونکہ جب دو لفظ ایک دوسرے کے مقابل استعمال کئے جائیںتواگر دونوں لفظ مختلف قسم کی اشیاء پر دلالت نہ کرتے ہوںتوبعد میں آنے والا لفظ یاپہلے سے