تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 89

کامیاب ہوگئے۔فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ کہہ کر کفار کو شرمندہ کیا گیا فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ کہہ کر کفار کو شرمند ہ کیا گیا ہے۔وہ دعویدا ر تھے کہ وہ ابراہیم ؑ اوراسمٰعیل ؑ کی اولاد ہیں (سیرۃ النبی لابن ہشام سیاقة النسب ولد اسماعیل علیہ السلام )اوران کے حالات بھی ان کے سامنے تھے کہ کس طرح تکالیف اٹھا کرکامیاب ہوئے۔پس فرماتا ہے کہ تم توشائد اپنے بزرگوںکو بھول گئے ہو۔اگر تم کو ان باتوںکاعلم نہیں تودوسری اقوام سے دریافت کرلو۔اہل ذکر کے معنی یاد رکھنے والے کے ذکر کے معنے چونکہ یاد رکھنے کے بھی ہیں۔اہل الذکر سے مراد یاد رکھنے والے کے بھی ہوسکتے ہیں۔اس صورت میں یوں معنے ہوں گے کہ اگرتم نہیں جانتے اورباپ دادوں کی باتوں کو بھو ل گئے ہو توجن کو یاد ہیں ان سے پوچھ لو یعنی مسلمانوں سے۔یہ پیرایہ کلام نہایت لطیف اوربلیغ ہے۔کفاریہ طنز سن کر دل میں کٹ ہی مرے ہوں گے۔نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ کہہ کرا س طر ف اشارہ کیاگیا ہے کہ نبی کا شرف فوجوںاورسامانوں سے نہیں ہوتا بلکہ اس کی دولت اس کی وحی ہوتی ہے اوراس کے ذریعہ سے وہ فتح پاتا ہے۔ا س آیت میں ا س طرف بھی اشارہ ہے کہ اگرکفار خیا ل کریں کہ اس بے سامان آدمی کے ذریعہ سے مسلمانوں کوحکومت کہاں سے مل جائے گی توان کو یاد رکھنا چاہیے کہ پہلے انبیاء بھی ایسے ہی تھے اوران کے پاس وحی الٰہی کے سوااور کچھ نہ تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے دنیا میں بہت بڑے تغیرات پیداکردیئے اوراسی دنیا میں ایک حشر برپاکردیا۔رِجَالًا کہے جانے کی وجہ یہاں پر رِجَالًا اس لئے فرمایا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے پر ملائکہ کیوں نازل نہیں ہوتے۔چنانچہ پہلی سورۃ میں بھی ان کا مطالبہ لَوْ مَاتَأتِیْنَا بِالْمَلٰئِکَۃِ کے الفاظ میں گذر چکا ہے۔یہاں ان کے اس خیال کو مدنظر رکھ کر ایک طنز بھی کی ہے۔اوروہ یہ کہ تم تو فرشتوں کوخدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہو پھر وہ ایلچی بن کر تمہارے پاس کیونکر آئیں۔ایلچی بن کر تومرد ہی آئیں گے۔چونکہ ہجرت کے بعد حکومت ملنی تھی اورحکومت کے ساتھ ان لالچیوں کے گروہ نے بھی پیداہوناتھا جواس حکومت کو دنیو ی حکومت سمجھ کر اس میں سے حصہ بٹانے کی کوشش کرنے والے تھے جیسے کہ مسیلمہ سجاح وغیر ہ نے۔اس لئے کوئی بعید نہیں کہ اس آیت میں اس آنےوالے فتنہ کابھی سدباب کیا گیا ہو کہ جب لو گوں نے فصاحت پر دعویٰ نبوت کی بنیاد رکھنی تھی اوربعض عورتیں بھی نبوت کادعویٰ کرنے والی تھیں ان دونوں خیالا ت کارد رِجَالًا اور