تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 78
اور کچھ نے نہ مانا۔اب اگر یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ نے جوکچھ کسی کو بنادیا بنادیا۔توہرنبی کے زمانہ میں ایک جماعت ایمان کیوں لاتی رہی۔اگر خدا تعالیٰ نے انہیں کافر بنادیاتھا توانہیں ایمان کس طرح نصیب ہوا۔پس ہرنبی کے زمانہ میں کافروں کی ایک جماعت کا مومن بن جانا ایک عملی ثبوت ہے اس امر کاکہ خدا تعالیٰ نے جبراً کسی کو کافر نہیں بنایا۔پانچواں جواب یہ دیا کہ ہرنبی کے دشمن ہلاک ہوتے چلے آئے ہیں دنیا ان کے نشانوں سے معمور ہے۔علم نہ ہوتو دنیا میں پھر کردیکھ لو اب اگر تمہارایہ دعویٰ صحیح ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہی بعض لوگوں کو کافر یا مشرک بنایا ہے تووہ لوگ تو مجبورمحض تھے انہیں سزادینا کس طرح جائز ہوسکتاتھا پس ان الٰہی عذابوں سے پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو مشرک یا کافر نہ بنایا تھا۔بلکہ وہ اپنی مر ضی سے مشرک یاکافر بنے تھے۔اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ (اے رسول)اگر تو ان (لوگوں )کی ہدایت یابی کی بہت خواہش رکھتاہے تو(سمجھ لے کہ )جولوگ (دوسروں کو يُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۰۰۳۸ دانستہ) گمراہ کررہے ہوں انہیں اللہ (تعالیٰ)ہرگزہدایت نہیں دیتا۔اورنہ ان کاکوئی مددگار ہوتاہے۔تفسیر۔اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع سے خطاب اس آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے اتباع سے خطاب ہے کہ تم میں سے ہر اک ان کفار کی ہدایت چاہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر اک کو ہدایت نہیں دے سکتا۔کیونکہ جس طرح و ہ جبر سے کافر مشرک نہیں بناتاجبر سے مومن موحد بھی نہیں بناتا۔کیونکہ اس طرح ایمان کی غرض باطل ہوجاتی ہے یعنی قلبی صفائی پیدا نہیں ہوتی۔پس وہ تم کو بتادیناچاہتاہے کہ جو دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں انہیں وہ جبر سے ہدایت نہ دے گا۔بلکہ ان کے مددگاروں کے سلسلہ کو بھی کاٹ دے گا۔لفظ حرص کا استعمال اور اس کے معنے اس آیت میں حرص کالفظ استعمال ہواہے۔اس سے دھوکانہیں کھاناچاہیے۔حرص کے معنے اردو میں برے ہوتے ہیں لیکن عربی میں صرف شدید خواہش کے ہوتے ہیںاوریہ اپنے استعمال کے موقعہ کے لحاظ سے اچھے اوربرے دونوں معنے دیتاہے۔اگربرے کام کے لئے اس لفظ کواستعمال