تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 73

هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ اَمْرُ (اب)یہ (لوگ )اس بات کے سوا کس کاانتظارکررہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس( آسمانی عذاب لےکر)آئیں یا رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ تیرے رب کا (فیصلہ کن) حکم آجائے۔اسی طرح ان لوگوں نے کیا تھا جو ان سے پہلے (زمانوں کے)تھے اور اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤااَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ۰۰۳۴ اللہ( تعالیٰ)نے ان پر (کوئی )ظلم نہیں کیاتھا بلکہ وہ (خود ہی )اپنی جانوںپر ظلم کرتے تھے۔تفسیر۔کفار پر فردی اور قومی عذاب کے آنے کی طرف اشارہ یعنی یہ کفار اب اپنی مدت گزارچکے ہیں۔اب تو یہ صرف ان عذابوں کاانتظار کررہے ہیں جو (۱)فردی طور پر ان پر آنے والے ہیں جیسا کہ اوپر کی آیا ت سے ظاہر ہے ملائکہ کا آنا فردی عذاب پر دلالت کرتا ہے۔(۲)اس عذا ب کاانتظارکررہے ہیں جوقومی طورپر ان پر نازل ہوگا۔اَمْرُ رَبِّکَ سے اسی طرف اشار ہ ہے۔وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ۔یعنی اپنے اعمال سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنانے کافعل پہلے کفار بھی کرتے رہے ہیں۔یہ بھی ویسا ہی کررہے ہیں۔مگراس کانقصان انہی کی جانو ںکو پہنچے گا۔نبی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔فَاَصَابَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ پس ان کے عملوں کی سزانے انہیں آپکڑ ا۔اورجس (عذاب کی خبر)پر وہ ہنسی کیاکرتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا يَسْتَهْزِءُوْنَ۠ؒ۰۰۳۵ (اورتباہ کردیا )۔حل لغات۔حَاقَ بِھمْ۔حَاقَ بِہٖ کے معنے ہیں اَحَاطَ بِہِ کسی چیز کااحاطہ کرلیا۔(اقرب) یَسْتَھْزءُ وْنَ۔یَسْتَھْزِءُ وْنَ اِسْتَھْزَأ سے جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے مزید تشریح کے لئے دیکھیں رعد آیت نمبر۳۳۔