تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 72

ہوجائیں گے۔(۲)ان کو ان جنتوں کے متعلق جن میں و ہ رکھے جائیں گے پورااختیار حاصل ہوگا۔اوران کے متعلق ان کے دل میں جو خواہش پیداہوگی وہ ضرورپوری ہو گی کیونکہ انہیں وہاں پورااختیار دیاجائے گا۔الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ١ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ (وہ متقی )جن کی روحوں کو فرشتے اس حالت میں کہ وہ پاک نفس ہوں (یہ )کہتے ہوئے قبض کرتے ہیں کہ عَلَيْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۳۳ (اب)تمہارے لئے سلامتی (ہی سلامتی)ہے۔جوکچھ (تم )کرتے تھے اس کے مطابق تم جنت میں داخل ہوجائو۔حل لغات۔سَلَامٌ:سَلَامُ کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۱۱۔سَلَامٌ کے کئی معنی ہیں۔اِسْمٌ مِنَ التَّسْلِیْمِ۔باب تفعیل سے اسم مصدر ہے اور اس کے معنی سلامتی دینے کے ہیں۔اِنْقِیَادٌ یعنی فرمانبرداری۔سلام خدا کا نام بھی ہے۔کیونکہ وہ تمام عیبوں اور نقصوں سے پاک ہے۔(الحشر ع۴) تفسیر۔یعنی متقی وہ ہوتے ہیں جن کوموت اس وقت کہ وہ طیب النفس ہوتے ہیں آتی ہے۔وہ ہرقسم کے نقصوں سے پاک ہوتے ہیں۔ہرقسم کی خوبیاں۔صفائی۔ترقی اورعلوّہمت کے جذبات ان میں پائے جاتے ہیں (طیبین کے معنوں کے لئے کلمہ طیبہ کی تفسیر سورئہ ابراہیم رکوع۴ میں دیکھو) یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌعَلَیْکُمْ۔یعنی کفار توخود ڈر کر صلح کی طرح ڈالیں گے اورمومنوں کو فرشتے خود بڑھ کر سلام کہیں گے۔