تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 613

بات ہے۔وہ اس کلام کی بھی دھجیاں اڑارہے ہیں جس کوظاہر میںتسلیم کرتے ہیں اورآئے دن ان میں کتب لکھی جاتی ہیں۔جن میں کبھی توحضرت مسیح ؑ کو ایک خیالی وجود ثابت کیا جاتا ہے۔کبھی بائیبل پر جرح کرکے اسے انسانی کلام ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔رکوع پراجمالی نظر اوپرکی آیات میں مسیحی اقوام کی آخری زمانہ کی ترقی اوردنیا میں پھیل جانے اوردین سے بے پرواہ ہوجانے اورخدا تعالیٰ کو بھول جانے کا ذکرکیاگیاہے اوربتایا ہے کہ اس ترقی کے بعد اللہ تعالیٰ غیب سے سامان پیداکرے گااوران کی ترقی تنزل سے بدل جائے گی۔تب مایو س ہوکر موسیٰ ؑ کے کشف کے مطابق ان کو دین کی طرف توجہ ہوگی اوروہ اپنی غلطی کومحسوس کرکے پھر مجمع البحرین کی طر ف لوٹیں گے اوراسلام کی طرف رجوع کریں گے۔میں اس جگہ یاجوج و ماجوج کے انجا م کے متعلق جوپیشگوئیاں بائبل میں ہیں ان کو بھی لکھ دینا مناسب سمجھتاہوں۔مکاشفا ت باب ۲۰ آیات ۷،۸ میں لکھا ہے کہ ’’جب ہزاربرس پورے ہوچکیں گے توشیطان قید سے چھوڑ دیاجائے گااوران قوموں کو جو زمین کے چاروں طرف ہوں گی یعنی یاجوج ماجوج کوگمراہ کرکے لڑائی کے لئے جمع کرنے کو نکلے گا۔‘‘یہاں پرہزاربرس سے مراد ؁ہجری کے ہزار برس ہیں۔یعنی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہزارسال بعدشیطان اپنی قید سے چھوٹے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہواکہ ۱۶۱۱؁ء میں ہندوستان میں مغربی اقوام کے قدم جم گئے اوریاجوج کی ترقی کا زمانہ شروع ہوا۔(انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ India) حزقیل باب ۳۸و۳۹ اورمکاشفات کوملاکر پڑھاجائے تویہ نتیجہ نکلتاہے کہ ان کی ترقی توسولہویں صدی میں شروع ہوگی (مکاشفات)اور تمام دنیا پرغالب ہوجانا اور تمام ملکوں پرچھا جانا آخری دنوں میں ہوگا(حزقیل باب ۳۸ آیت ۸۔۱۶) میں اوپر اشارہ کرآیا ہوں کہ ذوالقرنین کے حالا ت کے مشابہ حالات آخر ی زمانہ میں بھی ایک مثیل ذوالقرنین کے لئے مقدر ہیں اوراس واقعہ کو قرآن کریم میں بطورپیشگوئی بھی بیان کیاگیاہے۔اس تفصیلات کے لئے دیکھو بانی سلسلہ احمدیہ کی کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۰تا۹۷طبع اول)۔