تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 2
پر چل رہاہے۔اوریہی مضمون اس سورۃ کا محوری نقطہ ہے۔دوسرے اس میں جہا د کاپہلی دفعہ ذکر ہے۔چونکہ اس پر اعتراض ہوناتھا۔نحل کی مثال سے اشار ہ کیا کہ اس میں شہد بھی ہے اورڈنک بھی۔مگر ڈنک کم اورشہد زیادہ۔اسی اصول پر جہاد کاقیام ہے۔جس کی غرض صرف روحانی شہد کی حفاظت ہے۔سورۃ کے مضامین میرے بتائے ہوئے قاعدہ کے مطابق کہ سورتوں کے مضامین حروف مقطّعات کے تابع ہوتے ہیں۔اورجن سورتوں کے شروع میں مقطعات نہیںہوتے۔وہ اپنے سے پہلی سورۃ کے جس کے پہلے مقطعات ہو ں۔مضمون کے لحاظ سے تابع ہوتی ہیںاوراس میں اُسی سورۃ کے مضامین کا تسلسل ہوتاہے یہ سورۃ سورئہ حجر کے مضمون کے تسلسل میں ہے۔اوراسی کے مضمون کو نئے پیرایہ میں جاری رکھا گیا ہے۔یہ سورۃ سورۃ حجر کے مقطعات کے ماتحت ہے سورۃ حجر کے شروع میں الٓرٰ کے حروف ہیں جس کا مفہوم اَنَااللّٰہُ اَرٰی ہے یعنی میں اللہ دیکھ رہاہوں۔اس سورۃ میں انہی صفت کے مضمون کو نئے پیرایہ میں اورنئے اسلوب سے بیان کیاگیا ہے۔اس میں بتایاگیاہے کہ کلام الٰہی کیاشان رکھتا ہے اوراس کی کیاضرورت ہے۔اوراس کے اندر کیا قوتِ جاذبہ ہوتی ہے۔اورثابت کیا ہے کہ قرآن کریم جو تمام کتب سے کامل کتاب ہے۔اس کی قوت جذب اورقوت قدسی کی توحد ہی نہیں۔پھر مسلمانوں کی کامیابی میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔پچھلی سورۃ کے ساتھ اس کامزید جوڑ یہ بھی ہےکہ پہلی سورۃ کے آخر میں’’ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ ‘‘اور’’ فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ‘‘کہہ کر کفار سے عذاب کاوعدہ کیاتھا۔اب اس سورۃ میں اَتٰی اَمْرُاللّٰہِ کہہ کر یہ بتایاہے کہ وہ موعود وقت اب آہی گیا ہے۔پہلی سورۃ کے آخر میں تواٰتِیَۃٌ فرمایاتھاکہ عذاب کو آیا ہی سمجھو اوراس سورۃ کواَتٰی سے شروع کیاہے کہ وہ آہی گیاہے۔یہ قرآن کریم کامحاورہ ہے کہ وہ کسی امر کے قطعی ہونے پر ماضی کے صیغہ سے دلالت کرتاہے۔اسی طرح جلد ظاہر ہونے والے امور کوبھی ماضی کے صیغہ سے ظاہر کرتا ہے۔کیونکہ جو بات ہوچکی ہو۔اس کے متعلق کو ئی شک باقی نہیں رہتا۔اسی طرح ماضی کے لفظ سے اس امر پر بھی زو ردیاجاتاہے کہ وہ اس قدر قریب ہے کہ اُسے ہو چکا ہواہی جانو۔اردومیں بھی کہتے ہیں کہ بس اُسے آیاہواہی سمجھو۔یعنی اس کی آمد نہایت قریب ہے ان الفاظ سے بھی معلوم ہوتاہے کہ یہ سورۃ بالکل ہجرت کے قریب نازل ہوئی ہے۔خلاصہ مضمون اس سورۃ کاخلاصہ مضمون یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں بتایاجاچکاہے۔اس کی سچائی کے ظاہر ہونے کا وقت بالکل قریب آگیا ہے۔یہ سوال کہ یہ کلام کس پر نازل ہواہے۔بالکل بے حقیقت ہے۔معترض اتنا تودیکھے