تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 585
رَبُّكَ اَنْ يَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ يَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً اور(بڑےہوکر)اپناخزانہ(خود)نکالیں۔تیرے رب کی طرف سے (ان پر خاص )رحم (ہوا)ہے اور مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِيْلُ مَا یہ (کام )میںنے اپنے نفس کے حکم سے نہیں کیا۔یہ اس بات کی حقیقت ہے لَمْ تَسْطِعْ عَّلَيْهِ صَبْرًا۰۰۸۳ جس پرتوصبر نہیں کرسکا۔حلّ لُغَات۔الکنزُ اَلْکَنْزُکے معنے ہیں اَلْمَالُ اَلْمَدْفُوْنُ فِی الْاَرْضِ۔دفینہ۔وَقِیْلَ اِسْمٌ لِلْمَالِ اِذَااَحْرَزَفِی وِعَاءٍ اوربعض اس مال کوکہتے ہیں جو تھیلے وغیرہ میں محفوظ رکھاجائے۔اَلذَّھَبُ۔سونا۔اَلْفِضّۃُ۔چاندی (اقرب) تاویل تَأْوِیْلٌ کے معنوں کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۴۰۔اَلتَّأْوِیْلُ:اَلظَّنُّ بِاِلْمُرَادِ۔کسی کلام کے مطلب و مدعا کی نسبت ظن غالب بَیَانُ اَحَدِ مُحْتَمَلَاتِ اللَّفْظِ کسی لفظ کے کئی احتمالی معانی میں سے کسی ایک کی تعیین کرنا۔اَلْعَاقِبَۃُ انجام۔اَوَّلُ الشَّیْءَ: رَجَّعَہُ لو ٹایا۔اَلْکَلَامَ دَبَّرَہُ وَ قَدَّرَہُ وَفَسَّرَہُ تدبر کیا اور اس کا صحیح مطلب نکالا۔الرُّؤْیَا: عَبَّرَھَا تعبیر کی۔(اقرب) تفسیر۔یعنی اب ایک سوال حل طلب رہ گیا ہے جس میں ہماراتمہارااختلاف ہے اوروہ یہ کہ تم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ بغیر کسی ذاتی غرض کے ہم نے ایک گرتی ہوئی دیوار کس طرح بنادی۔سواس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دیوار ایک خزانہ کی محافظ تھی اوریہ خزانہ دویتیموں کاتھا جن کاباپ صالح تھا۔پرانی دیوار سے مراد یہود و نصاریٰ کے بزرگ جیساکہ میں بتاچکا ہوں دیوارسے مراد یہود ونصاریٰ کے بزرگ ہیں یعنی خود موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام اوران کے باپ حضرت ابراہیمؑ ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(النحل :۱۲۳)اورکنز سے مراد وہ علمی خزانہ ہے جسے موسیٰ اورعیسٰی علیہماالسلام کی تعلیم نے محفوظ کیا ہواتھا۔مگریہود ونصاریٰ کی بے توجہی اوردین سے دوری کی وجہ سے موسیٰ اورعیسٰی علیہما السلام کاتصرف جوان خزانوں کی حفاظت کے لئے کام کررہاتھا کمزورپڑ گیاتھا۔محمد رسول اللہ صلعم نے پھر اس دیوار کوبنادیایعنے ایک نئے