تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 569

بھی ظاہر ہے۔کہ یہ خواب تھی۔کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ جومستقل نبی تھے دوسرے شخص سے خواہ وہ کوئی ہو ،یہ نہ کہہ سکتے تھے کہ امورروحانیہ میں میں تیری فرمانبرداری کروںگا۔اس آیت میں یہ اشار ہ ہے کہ موسوی قوم میں سے جولوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کو پائیں ان کے لئے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت فرض ہے۔اوراسی طرف حدیث میں ان الفاظ میں اشارہ موجود ہے۔کہ لَوْکَانَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی حَیَّیْنِ لَمَاوَسِعَھُمَا اِلَّااتِّبَاعِیْ۔(ابن کثیرسورة آل عمران قولہ تعالیٰ و اذ اخذ اللہ میثاق)اگرموسیٰ اورعیسیٰ بھی زندہ ہوتے تووہ بھی میری پیروی کرتے۔قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِيْ فَلَا تَسْـَٔلْنِيْ عَنْ شَيْءٍ حَتّٰۤى اس نے کہا (کہ)اچھا اگرتومیرے ساتھ چلے توتُوکسی چیز کے متعلق جب تک کہ میں اس کے متعلق تجھ سے ذکرکرنے اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًاؒ۰۰۷۱ میں پہل نہ کروں مجھ سے سوال مت کیجئیو۔حل لغات۔اُحْدِثُ: اَحْدَثَہُ کے معنے ہیںاِبْتَدَأَہٗ۔اس کی ابتداکی پہل کی (اقرب) پس حتّٰی اُحْدِثَ کے معنے ہوں گے یہاں تک کہ میں پہل کروں۔تفسیر۔یعنی اس عبد نے کہا۔کہ بہت اچھا چلو میرے ساتھ مگرجب تک میں خود نہ بولو ں تم نہ بولنا۔یہ عجیب لطیفہ ہے۔کہ موسیٰ سے پہلے سے اس قدرعہد لئے گئے۔اورپھر بھی وہ پوچھتے چلے گئے۔مگرمحمد رسول اللہ صلعم کے اسرا ء میںان سے جبریل نے کوئی عہد نہ لیا۔مگرپھر بھی جب دنیااورشیطان کے تمثیلی وجودوں کے کرنے کے موقعہ پر جبریل نے آپؐ کو سوال کرنے سے روکا توآپؐ نے اس کی بات مان لی اورسوال نہ کیا(تفسیر ابن جریر سورۃ بنی اسرائیل )۔حالانکہ آپ نے کوئی عہد نہ کیاتھا۔اس سے بھی محمدی مقام اورموسوی مقام کافرق ظاہر ہوتاہے۔