تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 554

ثابت کرتی ہے کہ یہ کوئی جسمانی واقعہ نہیں۔مثلاً خرق سفینہ کے واقعہ کو لے لو۔اس میں جولکھا ہے کہ انہوں نے کشتی میں بڑاسوراخ کردیا۔تاکہ بادشاہ اس کوچھین نہ لے۔اس پر سوا ل یہ ہے کہ کیااس شگاف سے وہ کشتی بے کار ہوگئی تھی ؟اگرکہا جائے کہ نہیں۔توا س پر سوال پیدا ہوتاہے کہ پھر بادشاہ نے اس کوکیوں نہ چھینا جبکہ وہ ابھی کارآمد تھی۔اوراگرکہو کہ بالکل نکمی ہوگئی تھی۔توپھر سوال ہوتاہے کہ اس سوراخ کی وجہ سے و ہ دریامیں غرق کیوں نہ ہوگئی۔ظاہر ی طورپر کوئی ایسی کشتی جس کاتختہ نکال کر اس کو بالکل بیکا رکردیاگیاہو غرق ہونے سے بچ نہیں سکتی تھی۔ہاں کشف میں یہ نظارہ دیکھنا خلاف عقل نہیں ہوتا کہ کوئی تختہ بھی نکال دیاجائے اورکشتی غرق بھی نہ ہو۔پھرقتل نفس کاواقعہ ہے۔یہ بھی ظاہری واقعہ نہیں ماناجاسکتا۔کیونکہ حضرت موسیٰ کو سبق سکھانے والایاکوئی نبی ہوگا یاکوئی بڑابزرگ۔لیکن قتل نفس بغیر نفس توکوئی ادنیٰ مومن بھی نہیں کرسکتا۔کجایہ کہ ایک عظیم الشان نبی ایسے فعل کاارتکاب کرے۔اس کے جواب میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس نوجوان نے چونکہ آئند ہ قتل کرنے تھے۔اس لئے اس کوقتل کردیا۔مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ بھی ظلم ہے اورخلاف شریعت۔اگر ارتکاب جرم سے پہلے محض علم کی بناء پر سزادیناجائز ہے توپھر خدا تعالیٰ کو سب لوگوں کے گناہوں کا قبل از وقت علم ہے وہ کیوں سب کوسزانہیں دیتا۔شریعت کااصولی قانون یہی ہے کہ جب تک کوئی کسی گناہ کامرتکب نہ ہوجائے ،اس کوسزانہیں دی جاسکتی۔اس اصل پر شرائع کااختلاف اثرانداز نہیںہوسکتا۔یعنی بعض کہتے ہیں کہ وہ عملاً قتل کیا کرتا تھا۔مگراس کاپتہ نہ لگتاتھا (تفسیر مظہری سورۃ الکہف زیر آیت حتی اذا لقیا۔۔۔)۔یہ جواب بھی نہایت بوداہے۔اگریہ بات صحیح ہے۔توقرآن مجید کوچاہیے تھا کہ یہ وجہ بتاتا۔تاکہ لوگوں کی تسلی ہوجاتی۔اورانہیں معلوم ہوجاتاکہ بلاوجہ اس نوجوان کو قتل نہیں کیا گیا۔آخری واقعہ دیوار کاہے۔اس کوبھی ظاہری حالت میں تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔بھلایہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اپنے ساتھی کے دیوار بنادینے پر حضرت موسیٰ ؑ جیسا وسیع الحوصلہ او رعظیم الشان نبی اس لئے اعتراض کرے کہ شہر کے لوگوں نے ہمیں کھانا نہیں کھلایا۔شہر والوں کے کھانانہ کھلانے کاالزام ان پر تھا نہ کہ ان دو بیکس یتیموں پر جن کی وہ دیوار تھی۔اوریو ں بھی یہ بات حضرت موسیٰ ؑ کی شرافت نفس سے بہت بعید ہے کہ و ہ دویتیموں کی دیوار پر اجر نہ لینے پر اعتراض کریں۔غرض واقعہ کی اندرونی شہاد ت بھی ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک کشف ہے نہ کوئی ظاہر ی واقعہ۔(۱۰)یہ ساراواقعہ بحیثیت مجموعی بھی ثابت کرتاہے کہ یہ ایک کشف تھا۔کیونکہ جو تین باتیں اس سفرمیں بتائی