تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 538

کہ ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔یعنی پھر تم ماتحت ہوگئے ہو کیاتمہاراخیال تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدہ مقرر نہیں کیاتھا۔یعنی تمہاری تباہی کا وقت مقرر نہ تھا۔اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ یہ دوسری تمثیل پہلی کی شرح ہے۔کیونکہ پہلی تمثیل میں بھی یہ کہا گیاتھا۔مَااَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ ھٰذِہٖ اَبَدًا۔وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَ اور(ان کے اعمال کی )کتاب (ان کے سامنے )رکھ دی جائے گی۔پس (اے مخاطب)توان مجرموں کو اس کی وجہ يَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّ سے جواس میں (لکھا)ہوگاڈرتے دیکھےگا۔اور(اس وقت )وہ کہیں گے کہ اے (افسوس)ہمار ی تباہی (سامنے لَا كَبِيْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ کھڑی ہے )اس کتاب کوکیا (ہوا) ہے (کہ )نہ کسی چھوٹی بات کو اس کااحاطہ کئے بغیر چھوڑتی ہے اورنہ کسی بڑی لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًاؒ۰۰۵۰ بات کو اورجوکچھ انہوں نے کیا (ہوا)ہوگا۔اُسے (اپنے سامنے )حاضرپائیں گے۔اورتیرارب کسی پرظلم نہیں کرتا۔حلّ لُغَات۔مُشفقین اَشفَقَ سے اسم فاعل مُشْفِقٌ آتاہے۔اورمُشْفِقُوْنَ اس کی جمع ہے اَشْفَقَ عَلَیْہِ کے معنی ہیں : خَافَ وَحَاذَرَ۔ڈرااوراس نے بچائوکیا (اقرب) اَحْصٰھَا۔اَحْصَی الشَّیْءَ اِحْصَاءً کے معنی ہیں عَدَّہُ اسے شمار کیا (اقرب) تفسیر۔وضع کتاب کے معنی وُضِعَ الْكِتٰبُ۔کتا ب کے رکھاجانے کے معنی یہ ہیںکہ وہ ان میں جاری ہوجائے گی۔یعنی اس کافیصلہ نافذ ہوجائے گا۔وَضَعْنَا السَّیْفَ فِیْھِمْ کے معنی ہوتے ہیں کہ تلوار نے ان میں اپناکام کرناشروع کردیا۔یعنی خوب قتل کرنے لگ گئی۔فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ۔یعنی ان اقوام کے دل سے وہ خیال مٹ جائے گاکہ ہماری حکومت ہمیشہ رہے گی بلکہ دلوں