تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 522

بِنَخْلٍ پہلے بتایا جاچکا ہےکہ نخل سے مراد آقا کے غلام ہوتے ہیں۔پس انگور کے باغ کااحاطہ نخل سے کرنے کے یہ معنی ہوں گے۔کہ فوجی طاقت سے وہ اپنے مال اوراولاد اورملک کی حفاظت کرے گا۔وَ جَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا۔زرع کے معنی عمل کے ہوتے ہیں۔پس دونوں باغوں کے درمیان عمل ہوگا کے یہ معنی ہوں گے کہ ادھر بھی بادشاہت ہوگی جس کی حفاظت فوجیں کررہی ہوں گی۔اورادھر بھی بادشاہت ہو گی جس کی حفاظت فوجیں کررہی ہوں گی اوران دونوں کے درمیان زرع ہوگی۔یعنی درمیان میں معمولی حیثیت کی جائدا دہوگی جو بے حفاظت ہوگی۔وَكِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا۔یعنی یہ دونوں باغ اپنے اپنے وقت پر پھل دیتے رہے۔وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَيْـًٔا۔اور کبھی انہوں نے اپنے پھل دینے میں کمی نہیں کی۔یہ عبارت بھی بتارہی ہے کہ اس جگہ با غ تمثیلی ہیں معروف باغ مراد نہیں۔کیونکہ یہ قانون قدر ت ہے کہ پھل کسی سال زیاد ہ آتا ہے۔کسی سال کم آتاہے۔دونوں باغوں کے لئے مفرد کی ضمیر لانے میں حکمت نیزاس آیت سے ایک اوربات بھی معلوم ہوتی ہے اوروہ یہ کہ گودوباغوں کا ذکر کیا ہے۔لیکن باوجود ان کے ایک جہت سے دوہونے کے دوسری جہت سے و ہ ایک بھی تھے۔کیونکہ ان باغوں کے لئے ضمیر مفرد کی استعما ل کی ہے۔یعنی اٰتَتَاکی جگہ اٰتَتْ فرمایا ہے۔اورلَمْ تَظْلِمَا کی جگہ لَمْ تَظْلِمْ کالفظ استعمال کیاہے۔اوریہ دونوں واحد مونث کے صیغے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس فرق سے یہی مضمون پیداکرنامقصود ہے کہ بظاہردوباغ ہیں۔لیکن اصل میں ایک ہی باغ ہے۔یایوں کہو کہ ایک باغ کے دوحصے ہیں (اس میں کوئی شک نہیں کہ کِلْتَا کی طرف لفظاً ضمیر واحد مونث بھی پھرائی جاسکتی ہے۔لیکن معناً ضمیر تثنیہ کی آنی چاہیے۔علامہ بیضادی نے لکھا ہے۔وَفِی الْحَاشِیَۃِ السَّعْدِیَۃِ فَاِنَّہُ اِسْمٌ مُفْرَدُاللَّفْظِ عِنْدَ الْبَصْرِیِّیْنَ وَمُثَنَّی الْمَعْنَی وَمُثَنَّی لَفْظًا وَمَعْنًی عِنْدَ الْبَغْدَادِیِّیْنِ (حاشیہ القونوی علی تفسیر البیضاوی جلد ۱۲ صفحہ ۷۹ زیر آیت ھذا)کہ حاشیہ سعدیہ میں ہے کہ بصریوں کے نزدیک کِلْتَا کالفظ بلحاظ معنی تثنیہ ہے۔اوربلحاظ لفظ کے مفردہے مگربغدادیوں کے نزدیک کِلْتَا لفظاً اورمعناً دونوں طرح تثنیہ ہے۔القونوی علی البیضاوی میں لکھاہے۔کہ حریری نے درَّہ الغواص میں کہا ہے کہیَقُوْلُوْنَ کِلَا الرَّجُلَیْنِ خَرَجَا وَکِلْتَا الْمَرْأَتَیْنِ حَضَرَتَا۔یعنی عرب کِلَا اورکِلْتَاکے بعد فعل تثنیہ لاتے ہیں۔پس بغدادی ائمہ لغت کے مذہب کی بناء پر توقرآنی آیت میں اٰتَتَا آناضروری تھا۔اورحریری کے قول کے