تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 48

کوپوراکرسکتی ہیں۔اللہ ہی ہے جو مستقل ذخائر کے جمع رکھنے کے سامان پیداکرتاہے۔باولیاں کب تک پانی دے سکتی ہیں اورکہاں تک۔دریاہی ہیں جو ساراسال پانی دیتے ہیں اورملکوں کے ملک ان سے سیراب ہوتے ہیں۔اسی طرح پہاڑ ہیں جو ملکوں کی ضروریات کو پوراکرتے ہیں۔اورساراسال قسما قسم کی ضروری ادویہ اورپھل پھو ل اورنہ ختم ہونے والے ذخائرلکڑی کے ان سے ملتے ہیں۔اورپھر یہ بڑے راستے ہی ہیں کہ جودنیا کے درمیان تعلق قائم کررہے ہیں۔مختلف زمانوں اور مختلف فطرتوں کی روحانی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کلام الٰہی کی ضرورت پس اسی طرح روحانی ضرورت کو پوراکرنے کے لئے ایسے کلام کی ضرورت ہے جو صرف ایک وقت کے لوگوں یا چند لوگوں کے فائدہ کے لئے نہ ہو۔بلکہ مختلف فطرتوں اورمختلف زمانوں کی ضرورت کو پوراکرنے والاہو۔اورجس کے ذریعہ سے دنیا روحانی مسافت طے کرسکے۔یعنی ایک نبی کے زمانہ سے اس کے بعد کے نبی کے زمانہ تک پہنچانے کی اس میں قابلیت ہو۔یعنی اس میں ایسا ارتقاء ہو کہ فطرت انسانی اس پر چل کر اگلے روحانی ملک میں یعنی بعد میں آنے والے نبی کی تعلیم تک پہنچنے کی قابلیت پیداکرلے۔انسان کو کیا معلوم ہے کہ سویادوسو سال بعد انسانی دما غ نے کیا ترقی کرنی ہے کہ وہ اس کے مطابق ذہنوں کو روشنی پہنچانے کے سامان کرے۔یہ سفرتوالٰہی بنائے ہوئے راستہ پر ہی طے ہو سکتا ہے۔جوانسانی دماغ کو برابر ترقی دئے چلاجاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ مختلف فلسفے ایک شاہراہ پر گامزن نہیںہوتے۔بلکہ کبھی آگے قد م بڑھاتے ہیں اور کبھی پھر واپس صدیو ں کے فلسفہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔لیکن اس کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تعلیمات نبیوں کی معرفت انسانوں کو ایک ہی شاہراہ پر آگے ہی آگے بڑھاتی چلی گئی ہیں اوران میں کسی جگہ بھی رجعت قہقری پیدا نہیں ہوئی۔وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ اور(ان کے علاوہ اس نے)کئی (اور)علامات بھی (قائم کی ہیں )اورستاروں کے ذریعہ سے (بھی ) هُمْ يَهْتَدُوْنَ۰۰۱۷ وہ (لوگ)راہ پاتے ہیں۔تفسیر۔عَلٰمٰتٍ کا عطف اَلْقٰی پر ہے عَلٰمٰتٍ کاعطف بھی اَلْقٰی پر ہی ہے اوراس میں بھی