تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 506

(اِسْتِفْتَاءً) کے معنے ہیں سَأَلَہٗ اَنْ یُفْتِیَہٗ فِیْھَا۔اس نے کسی عالم سے چاہاکہ وہ ا س کے متعلق اسے واقفیت بہم پہنچائے۔(اقرب) تفسیر۔اصحاب کہف کی گنتی کو صرف اللہ ہی جانتا ہے اس آیت میں پھر ابتدائی اصحاب کہف کی نسبت ایک اوربحث کا ذکر فرمایا ہے کہ کوئی ان کو تین بتاتاہے کوئی چار کوئی پانچ ،مگر یہ سب ظنی باتیں ہیں اورکوئی کہتاہے کہ سات ہیں آٹھواںان کاکتاہے۔بعض نے اس سے یہ نتیجہ نکالاہے کہ سات تھے۔کیونکہ پہلے اعداد کے ساتھ توفرمایا یہ ظنی باتیں ہیںاوراس آخر ی تعداد کو بعد میں بیان کیا ہے معلوم ہوایہ قول درست ہے۔حالانکہ یہ قول بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب نہیں کیا۔بلکہ دوسروں کی طرف منسوب کیاہے اوراس کے بعد فرمایا ہے کہ توان سب لوگوں سے کہہ دے کہ اللہ ان کی گنتی کوجانتاہے۔اگریہ آخری گروہ صحیح اندازہ بیان کرنے والاہوتا توان کو یہ کیوں کہاجاتا کہ اللہ تعالیٰ ان کی گنتی کوجانتاہے۔پھرتویہ کہناچاہیے تھا کہ تُوان لوگوں سے کہہ دے کہ تمہارابیان صحیح ہے۔پس درحقیقت اس قول والوں کی بھی تردید کی گئی ہے کیونکہ اصحاب کہف پانچ سات نہ تھے۔بلکہ و ہ تومختلف اوقات میں غاروں میں چھپتے رہے اورہزاروں کی تعداد میں تھے۔پس اصل بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سواان کی گنتی کوئی نہیں جانتا۔مَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِيْلٌ۔کے یہ معنے نہیں کہ تھوڑے سے لوگوںکو ان کی گنتی معلوم ہے۔بلکہ یا تواس کامطلب یہ ہے کہ ان کی گنتی کوئی بھی نہیں جانتا۔کیونکہ قلیل کالفظ عربی میں اسی طرح نفی کے لئے آتاہے جس طرح انگریزی میں فیو FEW کالفظ نفی کے لئے آتاہے۔چنانچہ کہتے ہیں قَلِیْلٌ مِنَ الرِّجَالِ یَقُوْلُ ذَالِکَ اوراس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ کوئی یہ نہیں کہتا(اقرب)یا پھر ا س آیت میں چونکہ گنتی کالفظ نہیں اس آیت کایہ مطلب ہے کہ اصحاب کہف کی حقیقت کو تھوڑے آد می جانتے ہیں۔یعنی وہ جو صحیح تاریخ سے واقف ہیںوہ جانتے ہیں کہ یہ ابتدائی مسیحی لو گ تھے جو کیٹاکومبز میں چھپاکرتے تھے۔باقی لوگ ان کے بار ہ میں مختلف قصوں سے دھوکاکھارہے ہیں۔چنانچہ ان قلیل کے علم کا ہی نتیجہ ہے کہ آخر ان کی اصل حقیقت ظاہرہوگئی۔آگے فرمایا کہ ان کے بارہ میں سوائے اصولی بات کے اورکوئی بات نہ کر و۔یعنی تفاصیل دنیاکومعلوم نہیں ہیں۔پس صرف اصو لی باتیں کرو اورتفاصیل میں نہ پڑو۔اوریہ کہہ کرکہ لوگوں سے ان کے بار ہ میںسوال نہ کرویہ بتایا ہے کہ تاریخ کایہ حصہ مٹ گیاہے کوئی بھی پور ی تفصیل اس واقعہ کی نہیں بتاسکتا۔ا س لئے اگر تفصیلی معلومات حاصل کرناچاہو گے توغلطی کروگے۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے اس حکم کے باوجود کتے کارنگ اوراس کاقد تک یہود