تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 47
راستوں پرچل کر جو ہمالیہ اور دوسرے پہاڑوںیاکجلی بن کے دامن پر قدرت کے ہاتھو ں سے تیار کیا گیاتھا۔اس زمانہ میں راستہ کے لئے طبعی نشانوں کاموجود ہوناضروری ہوتاتھا۔جن کی وجہ سے لوگ مسافتوں اورجہات کا اندازہ لگاسکیں۔اسی طرح غذاکامہیاہوناضروری ہوتاتھا۔پس پہاڑوں کے دامنوں،جنگلوں کے ساتھ ساتھ اوردریائوں کے کناروں کے ساتھ ساتھ لوگ بالعموم سفر کرتے تھے اوریہ گویاطبعی راستے تھے جن سے دنیا کے تعلق قائم تھے۔اوراس آیت میں انہی راستوں کا ذکر ہے نہ کہ مقامی سڑکوں کاجومختلف شہروںکو آپس میں ملاتی ہیں اس بیان سے اس امر کی حکمت بھی ظاہرہوجاتی ہے کہ کیوں ان تینوں چیزوں کو اکٹھا کرکے بیان کیاگیا ہے۔راستوں سے مراد دریاؤں کے راستے اس کے علاوہ راستوں سے مراد وہ راستے بھی ہوسکتے ہیں جن پر دریاچلتے ہیں۔اوراگراللہ تعالیٰ زمین میں ایسے خلال یانشیب نہ پیداکرتا جن میں دریائوں کاپانی سکڑ کرچلتاہے توسب زمین پر پانی ہی پانی ہوتا اوردنیا رہنے کے قابل نہ ہوتی۔پہلی اشیاء کو بیان کرنے کے بعد سبل ،انہار اور رواسی کے بیان میں حکمت پہلی اشیاء کے ذکر کے بعد ان اشیاء کو الگ کیوں بیان کیاگیاہے ؟ اس میں یہ حکمت ہے کہ پہلے متفرق چیزوں کا ذکر تھا۔اب اس آیت میں ان چیزوں کا ذکر ہے جو خزانہ کو جمع رکھتی ہیں۔پہاڑ برف کے ڈھیر جمع رکھتے ہیں درخت اور جڑی بوٹیوں کے ذخیرے رکھتے ہیں۔دریاپہاڑوں سے پانی لے کر سال بھر تک پانی ملک کو مہیاکرتے ہیں۔اورطبعی راستے ان جگہوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے انسان کی مدد کرتے ہیں۔اگرپہاڑصرف ایک بلند ٹیلاہوتے اوراس طرح تدریجی طریق پر بڑھنے والی بلندیا ں نہ ہوتے توانسان ان کی چوٹیوں تک کس طرح پہنچ سکتا تھا۔اگردریا ایک پھیلاہواپانی ہوتے توان سے دنیا فائد ہ نہیں اٹھاسکتی تھی۔اُلٹاان سے نقصا ن ہوتاکہ قابل کاشت زمینوں کو وہ پانی کے نیچے چھپائے رہتے اورچلنا پھرنا لوگوں کے لئے مشکل ہوجاتا۔پہاڑوں اور دریاؤں کا خاص قانون کے ماتحت پھیلنا پس پہاڑو ں اوردریائوںسے فائدہ اسی صورت میں اٹھایاجاسکتاہے کہ وہ خاص قانون کے ماتحت پھیلیں یاان تک پہنچنے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ راستے ہوں جن پر چل کر انسان ان کے فوائد سے متمتع ہوسکے۔اس آیت کا پہلی آیت سے تعلق اس آیت کا پہلی آیات سے تعلق ایک تونعماء الٰہی کے شمار کے لحاظ سے ہے اوریہ بتایاگیا ہے کہ جب تمہارے مادی فوائد کے لئے یہ کچھ سامان پیداکئے گئے ہیں توتمہاری روحانی ضرورتوںکو اللہ تعالیٰ کس طرح نظرانداز کرسکتاتھا۔دوسرے یہ بتایاگیا ہے کہ انسانی تدابیر صرف ایک وقت کی ضرور ت