تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 505
سَيَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ يَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ وہ (لوگ جو حقیقت حال سے بےخبر ہیں ضرور)غیب کے متعلق نشا نہ بازی کرتے ہوئے (کبھی)کہیں گے (کہ و ہ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَيْبِ١ۚ وَ يَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ صرف)تین(آدمی)تھے جن کے ساتھ چوتھاان کاکتاتھا اور(کبھی )کہیں گے (کہ وہ )پانچ تھے جن کے ساتھ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّيْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا يَعْلَمُهُمْ چھٹا ان کاکتاتھا۔اور(ان میں سے بعض یوں بھی )کہیں گے (کہ وہ )سات تھے اوران کے ساتھ آٹھواں ان اِلَّا قَلِيْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِيْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا کاکتاتھاتو(انہیں )کہہ (کہ)ان کی(صحیح)گنتی کواللہ (تعالیٰ ہی)بہترجانتاہے (اور)تھوڑے لوگوں کے سوا تَسْتَفْتِ فِيْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًاؒ۰۰۲۳ انہیںکوئی نہیںجانتا۔پس توان کے متعلق مضبوط بحث کے سواکوئی بحث نہ کر اوران کے بارہ میں ان میں سے کسی سے حقیقت حال دریافت نہ کر۔حلّ لُغَات۔رَجْمًابِالْغَیْبِ۔اَلرَّجْمُ:اَنْ یُتَکَلَّمَ بِالظَّنِ۔یُقَالُ ’’رَجْمًا بِالْغَیْبِ‘‘اَیْ لَا یُوْقَفُ عَلٰی حَقِیْقَتِہِ۔رجم کے معنے ظنی طورپر بات کرنے کے ہیں۔اوررَجْمًۢا بِالْغَيْبِ انہی معنوں میں ہے کہ اس نے بات توکی لیکن اس کی حقیقت سے بے خبرتھا۔مزید تشریح کے لئے دیکھو سورہ حجرآیت نمبر ۳۰یا الکہف آیت نمبر ۲۰۔تُمارِ:مَارَاٰہُ(مُمَارَاۃً وَمِرَاءً )کے معنے ہیں جَادَلَہُ وَنَازَ عَہٗ۔اس نے اس سے جھگڑاکیا۔وَلَاجَّہَ وَطَعَنَ فِیْ قَوْلِہٖ تَزْیِیْفًالِلْقَوْلِ وَتَصْغِیْـرًالِلْقَوْلِ۔اس نے نہایت سختی سے جھگڑاکیااورمدمقابل کی بات کوساقط قرار دیتے ہوئے طعنہ زنی کی اورکلام کی اہانت کی (اقرب) لَاتَسْتَفْتِ لَاتَسْتَفْتِ اِسْتَفْتٰی سے نہی کاصیغہ ہے اوراِسْتَفْتٰی فُلَانٌ الْعَالِمَ فِی مَسْئَلَۃٍ