تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 500
عیسائیت بھی روم کےہی ذریعہ سے قائم ہوئی ہے اس لئے شاخوں کاکام جڑ ہی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔اَزْکیٰ کے معنے اَصْلَحَ کے ہوتے ہیں۔یعنی مناسب حال۔اوراس کے معنے اعلیٰ درجہ کے بھی ہیں یورپ کی قوموں کے پھیلنے کی بڑی وجہ یہی ہوئی ہے کہ ان کے ملکو ں میں غلہ کافی نہیں ہوتا اورو ہ غلے اور مصالحے ایشیا سے لے جاتے تھے۔پہلے عربوں کی معرفت وہ چیزیں خریدتے تھے۔لیکن جب ہندوستان کاراستہ دریافت ہوگیاتوانہوں نے براہ راست ان اشیاء کی تجارت اپنے ہاتھ میں لے لی۔اورآہستہ آہستہ دوسری چیزوں کی تجارت بھی ان کے ہاتھ میں آگئی۔طَعَامٌ کے معنے اس جگہ پکے ہوئے کھانے کے نہیں۔عربی زبان میں طعام ہرکھانے کی چیز کو کہتے ہیں۔خصوصاً گند م کو۔اورجب تک امریکہ نے گندم کی پیداوار میں کوشش نہیں کی جوبالکل قریب زمانہ کی بات ہے دوسو سال تک یورپ کو ہندوستان ہی گند م مہیاکرتارہاہے۔گویا انہوں نے اس غلہ خریدنے والے کو ہدایت کی کہ چونکہ ہم نے اس غلہ کو ذخیرہ کرنا ہے اوردیر تک جمع رکھنا ہے اس لئے مناسب طعام دیکھ کرلانا۔یہ جوفرمایا ہے وَ لْيَتَؔلَطَّفْ یہ مغربی قوموں کاخاصہ ہے۔ان کے باہر جانے والے افسروں کوخاص ہدایت ہوتی ہے کہ و ہ بہت میٹھے طورپر باتیں کریں اورتاجربھی ایسے میٹھے رہتے ہیں کہ لوگوں میں جوش پیدا نہیں ہوتا۔وَ لَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا اس آیت میں گواَحَدًا کالفظ آیا ہے۔اورضمائربھی مفرد کے استعمال ہوئے ہیں۔لیکن میرے نزدیک یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی آدمی کابھجوایاجانایہاں مراد ہو۔قرآن کریم میں حضرت آدم کے قصے میں ابلیس کا ذکر آتا ہے اورسب باتیں اسی کومخاطب کرکے کہی گئی ہیں۔لیکن دوسرے مقامات پرا س کے ساتھ اور جماعت بھی تسلیم کی گئی ہے۔جیسے کہ فرماتا ہے بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اسی طرح بعض دوسرے مقامات پر ابلیس کی ذریت کابھی ذکر کیا ہے۔پس گولفظ اَحَدَ کُمْ کااستعمال ہواہے مگر مراد یہ ہے کہ اپنے میں سے بعض کو سوداخریدنے کے لئے بھجوائواورمفردکالفظ میرے نزدیک اس نظام پردلالت کرنے کے لئے رکھا گیاہے کہ ایک نظام کے ماتحت جائیں اورذمہ دار اورجوابدہ ایک ہی شخص ہو۔کسی کوتمہاراعلم نہ ہونے سے یہ مراد ہے کہ اپنے وجود کومحسوس نہ ہونے دینا اور یہ ظاہر نہ ہونے دیناکہ تمہاری قوم کی نیت ان ممالک میں نفو ذ پیداکرنے کی ہے۔بلکہ ایسی طرح معاملہ کرنا کہ تمہاری آمد کی اغراض کو لوگ تاڑ نہ جائیں اور تمہارے اصلی منشاء کو نہ پہچانیں۔