تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 499
عرصہ تک ہم سوئے رہے۔ایک اورجگہ قرآن کریم میں اس عرصہ کو ایک ہزارسال بتایاگیاہے۔سورۃ طٰہٰ میں فرماتا ہے يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًا۔يَّتَخَافَتُوْنَ۠ بَيْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا (طٰہٰ :۱۰۳، ۱۰۴) یعنی جب صورپھونکا جائے گا اورہم مجرموں کو ہوشیا ر کرکے کھڑاکردیں گے جونیلی آنکھ والے رومی قوم کے ہوں گے وہ آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کریں گے اورکہیں گے کہ تم دس تک سوتے رہے۔دس سے مراد دس صدیا ں ہیں یعنی ہزار سال تک سوتے رہے۔زُرْقٌ کالفظ جوآیت میں آیا ہے اس کے معنے نیلی آنکھو ں والوں کے ہیں۔یوروپین لوگوں کی آنکھیں بوجہ رنگ کی سفیدی کے نیلی ہوتی ہیں اورعرب لوگ رومیوں کو ازرق کہتے تھے یعنی نیلی آنکھوں والے۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے أزْرَقٌ کے معنے دشمن کے بھی ہوتے ہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ روم اوردیلم کی آنکھیں نیلی ہوتی ہیں اورعرب لوگ ان کواپنا بڑادشمن سمجھتے تھے اس لئے آہستہ آہستہ اس لفظ کے معنے عربوں میں دشمن کے ہوگئے (اقرب) خلاصہ یہ کہ اس آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ انہیں شبہ تھا کہ وہ شاید تھوڑی دیر تک اس غفلت کی حالت میں رہے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایک لمباغیر معین عرصہ اس حالت میں رہے ہیں۔سورۃ طٰہٰ میں اس عرصہ کی مقدار ایک ہزارسال بتائی ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے ایک ہزار سال کاعرصہ شمارکیاجائے توحساب یوں بنتاہے۔رسول کریم صلعم کی پیدائش مطابق شمار سرولیم میور ۵۷۰ ء میں ہوئی۔(لائف آف محمدباب ۱ صفحہ ۵) دعویٰ نبوت چالیس سال بعد ہوا۔پس دعویٰ کی تاریخ ہوئی ۶۱۱ء۔اس میں ہزار سال جمع کئے جائیں تو۶۱۱ ۱ ء یا ۶۱۲ ۱ء بنتے ہیں۔اوریہی وہ تاریخیں ہیں جن میں ہندوستان میں انگریزوں کے قدم جمے۔۶۱۱ ۱ ء میں مغلیہ حکومت نے خلیج بنگا ل میں کام کرنے کی انگریزوں کواجازت دی۔اور ۱۶۱۲ ء میں سُورتؔمیں پہلا کارخانہ کھولنے کی اجازت دی (مارچ آف مین MARCH OF MAN مطبوعہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکاسوسائٹی )دنیاجانتی ہے کہ یورپ کی ترقی اوراس کے دنیامیں پھیلنے کی یہ پہلی بنیاد تھی۔یورپ نے انگریزوں کے نقش قدم پر اوران کے سہار ے پر ترقی کی ہے۔اورانگریزوں کی ترقی کا رازہندوستان میں ان کاوارد ہوناہے۔ہندوستان ہی میں قد م جمنے پر انہوں نے دوسرے ایشائی ممالک پراورافریقہ پر قبضہ کیا۔اوران کے اس طرح اقتدار حاصل کرنے پر دوسری یوروپین اقوام نے دنیا میںترقی کی۔شاید کوئی کہے کہ ذکر تو رومیوں کاتھا انگریزوں کاان امو رسے کیا تعلق ؟تواس کا جواب یہ ہے کہ یورپ کاموجودہ تمدن رومی اثر کاہی نتیجہ ہے اورسب یورپ روم کاشاگرد ہے اوراسی کی تہذیب کی یاد گار۔اوریو رپ میں