تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 498
اِطَّلَعَ عَلٰی اَسْرَارِہِ اس نے حیلوں کے ذریعہ سے اس کے بھیدوں پر اطلا ع پائی (اقرب) وَلَایُشْعِرَنَّ بِکُمْ۔یُشْعِرَنَّ شَعَرَ کے باب افعال کاصیغہ مضارع واحد مذکر غائب ہے۔شَعَرَ کے لئے دیکھو سورئہ یوسف آیت نمبر ۱۰۸۔شَعَرَبِہِ۔عَلِمَ بِہِ۔معلوم کیا۔لِکَذَا: فَطِنَ لَہٗ۔اس کو سمجھا۔عَقَلَہٗ۔اس کو پہچانا۔اَحَسَّ بِہٖ۔محسوس کیا۔(اقرب) تفسیر۔اس جگہ بھی ان اصحاب کہف کا ذکر نہیں جوابتدائی ایام میں غاروں میں چھپتے تھے۔بلکہ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ کے وقت کاحال بتایا ہے اوربَعَثْنٰھُمْ سے مراد آئندہ زمانہ میں شمالی اقوام کی ترقی کاجومسیحی ہو چکی ہوں گی ذکر کیا گیاہے۔ماضی کے صیغہ سے آئندہ کی خبر دینا قرآن کریم کاعام محاورہ ہے اورجیساکہ متعدد بار پہلے ثابت کیاجاچکا ہے۔ماضی کے صیغہ سے آئند ہ کی خبر دینے سے اس کے یقیناً واقع ہوجانے کی طرف اشارہ ہوتاہے۔جیساکہ اَتٰی اَمْرُاللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ (النحل :۲) وغیرہ بہت سی آیات ہیں۔اسی طریق کلام کو یہاں اختیارکیاگیا ہے۔اصحاب کہف کی بعثت سے مراد غرض اس آیت میں یہ بتایاگیاہے کہ ہم ایک دن ان قوموں کو جو ا س وقت سورہی ہیں بیدارکریں گے۔اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ وہ آپس میں یہ سوال کریں گی کہ تم کس قدرعرصہ تک سوتے رہے ہویعنی اب بیدار ہوناچاہیے۔چنانچہ صلیبی جنگوں کے وقت ان اقوام میں بیداری پیداہوئی اورانہوں نے اسلام کے خلاف جتھہ بازی کی اور اسلامی ممالک پر حملہ شروع کیا۔اصحاب کہف کے عرصہ قیام کی تشریح یہ جوفرمایا ہے کہ لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ۔اس سے یہ مراد نہیں کہ ان کوشک تھا کہ ہم دن یادن کاکوئی حصہ سوتے رہے ہیں۔بلکہ اس کے معنے عربی محاورہ میں غیرمعین اورلمبی مدت کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ قیامت کے دن کفارکے سوال وجواب میں بھی یہ الفا ظ استعمال ہوئے ہیں۔فرماتا ہے قیامت کے دن ہم کفار سے پوچھیں گےكَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ بتائوکہ تم دنیا میں کس قدر عرصہ رہے۔اس کے جواب میں کفار کہیں گے لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ۔ہم دن یادن کاکچھ حصہ رہے۔پس آپ ان سے پوچھئے جو گننے پرمقرر ہیں۔(المومنون :۱۱۳،۱۱۴) ان آیات میں سوال کی عبارت سے بھی اوراس جواب سے بھی ظاہر ہے کہ ان کی مرادیہ ہے کہ ایک غیر معین عرصہ تک ہم رہے۔یہی معنے اس جگہ ہیں۔کہ ایک غیر معین