تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 496
ان حالا ت میں وہ ایساشدید نہ ہوتا اوریو رپ میں اسلام کے ہمدرداورمددگار موجود ہوتے جومسیحی حملہ کی شدت کو بہت کم کردیتے۔یہ جوفرمایا کہ اگر تجھے ان کاعلم ہو تو تُوان سے مرعوب ہوجائے۔اس کاتعلق ا س وقت سے ہے جبکہ ان کو شمال اورجنوب میں پھیلادیاجائے گا۔چنانچہ دیکھ لو۔اس وقت ان شمالی قوموں کاکس قدر رعب ہے۔دنیا کی دوسری حکومتیں اگر کوئی ہیں بھی توان کے رحم پر ہیں۔اوران کارعب سب دنیا پر چھایا ہواہے۔وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ سے اس طر ف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ ان قوموں میں کتے رکھنے کابہت رواج ہوگا۔چنانچہ دیکھ لویوروپین قومیں عام طور پر کتے رکھتی ہیں جوان کے گھروں کے پہرے دیتے ہیں اورپہلاخوف ان کی کوٹھیو ں پرجانے والے کے لئے ان کے کتوں سے ہی پیدا ہوتاہے۔لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مخاطب نہیں ہوسکتے۔کیونکہ یہ نُقَلِّبُهُمْ کے بعد کی حالت کے اثر کابیان ہے۔پس اس میں ہرسننے والا ہی مخاطب ہو سکتا ہے۔یعنی ہرایک پر اُن کا رعب طاری ہوجائے گا۔چنانچہ کچھ عرصہ پیشتر توساری دنیا میں ہی اس قوم کارعب ماناجاتاتھا۔اب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی تباہی کے سامان پیداکرکے دنیا سے اس کے رعب کوکم کردیا ہے۔ورنہ اس قوم کاپہلے اس قدر رعب تھا کہ لوگ ریل گاڑی کے اول ودوم درجہ میں بیٹھنے تک سے بھی خو ف کھاتے تھے۔اوریوروپین لوگوں کی شکل تک دیکھنے سے مرعوب ہوجاتے تھے۔وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِيَتَسَآءَلُوْا بَيْنَهُمْ١ؕ اوراسی طرح ہم نے انہیں (بےکسی کی حالت سے )اٹھایا اس پر وہ آپس میں (حیرت سے )ایک دوسرے سے سوال قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ کرنے لگے( اور)ان میں سے ایک کہنے لگا (کہ )تم (یہاں )کتنی دیر ٹھہرے رہے ہو (جواس کے مخاطب تھے ) بَعْضَ يَوْمٍ١ؕقَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ انہوں نے کہا (کہ)ہم ایک دن یادن کاکچھ حصہ ٹھہرے ہیں۔(تب)انہوںنے( یعنی دوسروں نے)کہا (کہ )