تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 1
سُوْرَۃُ النَّحْلِ مَکِّـیَّۃٌ سورۃ نحل۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ مِائَۃٌ وَّ تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ اٰیَۃً وَسِۃَّ عَشَرَ رَکُوْعًا اوربسم اللہ سمیت اس کی ایک سو انتیس آیتیں ہیں اورسولہ رکوع ہیں۔یہ سورۃ مکی ہے اس سورۃ کے متعلق مفسرین کاقو ل ہے ھٰذِہِ السُّورَۃُ مَکِّیَّہٌ کُلُّھَاقَالَہُ الْحَسَنُ وَالْعَطَاءُ وَعِکْرَمَۃُ وَجَابِرٌ یعنی یہ سورۃ سب کی سب مکی ہے۔حسن عطا ءاورعکرمہ اورجابر نے اسی خیال کا اظہار کیا ہے۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اِلَّا ثَلَاثَ اٰیَاتٍ مِنْھَا وَھِیَ مِنْ قَوْلِہ تَعَالٰی۔وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِلٰی قَوْلِہِ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ (النحل :۹۶ تا ۹۸)۔حضرت ابن عباس ؓ کاقول ہےکہ یہ سورۃ سب مکی ہے سوائے تین آیتوں کے۔جو وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ سے شروع ہوکرلَنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَپر ختم ہوتی ہیں بعض دوسرے کہتے ہیںکہ بیشک تین آیتیں غیر مکی ہیں۔مگر وہ اس سورۃ کے آخر میں وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ سے لے کر وَ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ تک ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ مندرجہ ذیل تین آیات مدنی ہیں (۱)وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ والی آیت نَزَلَتْ فِی الْمَدِیْنَۃِ فِیْ شَأْنِ التَّمْثِیْلِ بِحَمْزَۃَ وَقَتْلٰی اُحُدٍ۔یعنی یہ آیت حضرت حمزہؓ اوردیگر شہیدانِ اُحد کے مُثلہ کرنے کے واقعہ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔(۲)وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ والی آیت(۳)ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا والی آیت۔بعض کہتے ہیں کہ اس سورۃ کے ابتداء سے پہلی تین آیات تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ تک مدنی ہیں۔اورباقی تمام سورۃ مکی ہے۔قتادہ نے اس کے بالکل برعکس کہا ہے۔وہ کہتے ہیں پہلی تین آیتیں مکی ہیں۔اورباقی سورۃ مدنی ہے۔(البحر المحیط زیر آیت اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ۠۔۔۔) یورپین مصنفین میں سے ویری ؔ نے ساری سورۃ کو آخری زمانہ کی مکی سورتوں میں سے قرار دیا ہے۔نولڈک نے سوائے آیات ۴۴،۱۱۲، ۱۲۰، ۱۲۱،۱۲۶کے باقی سب سورۃ کو مکی قرار دیا ہے۔(چونکہ اس نسخہ قرآن کریم میں بسم اللہ کو آیت شمار کیاگیا ہے اس لئے ایک ایک عدد بڑھادیاگیاہے۔نولڈک نے ۴۳،۱۱۱،۱۱۹،۱۲۰،۱۲۵ لکھا ہے )سیلؔ نے آخری تین آیات کو مدنی قرار دیا ہے اورباقی تمام سورۃ کو مکی۔وائل( WEIL )نے بڑے زور سے سیل کی بات کو رد کیاہے اورکہتا ہے کہ یہ بھی مکی ہی ہیں(وہیریز کمنٹری آن قرآ ن جلد ۳) وجہ تسمیہ اس سورۃ کانام نحل رکھا گیاہے۔کیونکہ اس میں نحل کی وحی کا ذکرکے بتایاگیاہے کہ تمام کارخانہء عالم وحی